خواتین نے مبینہ توہینِ مذہب کے الزام میں ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

پاکستان کے صوبے پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں تین خواتین نے مبینہ طور پر توہینِ مذہب کے الزام میں ایک شخص کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
یہ واقعہ تحصیل پسرور کے علاقے موضع مرزا باجوہ میں پیش آیا جہاں تینوں خواتین کو گرفتار کر کے ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔
قتل کے مقدمے میں نامزد ایک ملزمہ استانی اور دو ان کی شاگرد ہیں۔
دونوں شاگرد لڑکیوں کو ہمراہ لانے اور مقتول فضل عباس کی نشاندہی کرنے والی خاتون کا تعلق اسی گاؤں سے ہے‘ اور سنہ 2004 میں جب مقتول پر گستاخی مذہب کا الزام عائد کیا گیا وہ اس وقت نو عمر تھیں اور اسی گاؤں میں اپنی بڑی بہن کے ساتھ رہتی تھی۔ بعد ازاں وہ شادی کے بعد نارووال چلی گئیں جہان ٹیچنگ شروع کردی۔ وہیں‘ دیگر دونوں ملزم خواتین کے ساتھ ان کی دوستی ہوئی۔
ایف آئی آر کے مطابق مرکزی ملزمہ کو جب علم ہوا کہ توہین رسالت کا ملزم پاکستان واپس آ گیا ہے‘ تو وہ اپنی ساتھیوں کے ہمراہ مقتول کے والد سے دم کروانے کا بہانہ کر کے ملنے گئیں۔ دم کروانے کے بعد انھوں نے مقتول فضل عباس کے بارے میں پوچھا اور تھوڑی دیر میں فضل عباس بھی آ گئے‘۔ فضل عباس جب داخل ہوئے تو استانی کے اشارے پر دوسری ملزمہ نے دو گولیاں فضل پر چلائیں جو ان کے سینے پر لگیں۔ ایف آئی آر کے مطابق تینوں خواتین نے حملے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی لیکن مقتول کے خاندان کے شور مچانے کے بعد اہل ِ علاقہ کی جانب سے گھیرے میں لیے جانے پر تینوں نے فرار ہونے کی کوشش ترک کر دی۔ پولیس کو بتائی گئی تفصیلات کے مطابق مقتول فضل عباس پر توہینِ مذہب کے الزامات لگنے کے بعد کالعدم تنظیموں کی جانب سے قتل کے فتوے جاری کیے گئے‘ تھے۔
اسی وجہ سے مقتول کئی برسوں سے خاندان سمیت بیرونِ ملک مقیم تھا۔ اور حال میں میں واپس آیا تھا اور اپنے خلاف مقدمے میں عبوری ضمانت بھی حاصل کر لی تھی۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف قانون کی دفعات 302/34/109 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پاکستان میں حالیہ برسوں میں توہینِ مذہب کے الزام میں شہریوں کی جانب سے مبینہ ملزمان پر حملے کے بیشتر واقعات دیکھنے میں آئے ہیں‘ لیکن کسی واقعے میں خواتین کا کسی کو قتل کرنے کے بارے میں نہیں‘ سنا گیا۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔