ٹین پرسنٹ سے ایک ہزار پرسنٹ بنانے والا ہمیں کرپشن پردرس دے رہاہے، عابد شیر علی

فیصل آباد: وزیرمملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے ایک بار پیپلز پارٹی شریک چیرمین آصف زرداری کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے‘ کہ  10 پرسنٹ سے ایک ہزار پرسنٹ اور سرے محل بنانے والے آج ہمیں کرپشن اور اخلاقیات کا درس دے رہے‘ ہیں۔
فیصل آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کے فیصلے پر ہم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کیا، ان ججز کا بھی جنہوں  نے وزیراعظم کے خلاف نوٹ لکھا اور ان ججز کا بھی جنہوں نے جے آئی ٹی بنانے کی بات کی، کوئی سپریم کورٹ کا فیصلہ مانے یا نہ مانے لیکن جو فیصلہ جے آئی ٹی کرے گی ہم اسے من و عن تسلیم کریں گے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ آصف زرداری ملک کے سب سے بڑے دہشت گرد اور سندھ میں لینڈ مافیا کے سربراہ ہیں‘، عزیر بلوچ کے انکشافات کا ’’کُھرا‘‘ زرداری کے گھر جاتا ہے‘، عزیر بلوچ کے بیان پر آصف زرداری کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہونا چاہیے جب کہ ان کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالے جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایان علی پکڑی جاتی ہے‘ تو پیپلز پارٹی کے پیٹ میں مروڑ اٹھتی ہے‘، پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے‘ لیکن پیپلز پارٹی ملک میں نفرت پھیلانا چاہتی ہے‘، آصف زرداری نے ملک کے خلاف سازش کرنے والوں کو ایوان صدر میں پناہ دی اور آصف زرداری کے ہاتھ سے لے کر پاؤں کے ناخن تک خون میں کرپشن، لوٹ مار اور دہشت گردی رچی بسی ہے‘ لہٰذا 10 پرسنٹ سے 1000 پرسنٹ اور سرے محل بنانے والے آج ہمیں کرپشن اور اخلاقیات کا درس دے رہے‘ ہیں۔
عابد شیر علی نے عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو کل تک زرداری کو ڈاکو کہتے تھے‘ آج ان کی گود میں جا کر بیٹھ گئے‘ ہیں‘ جب کہ شیخ رشید کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے سیاسی تابوت نکالنے والے کا اپنا جنازہ نکل چکا ہے‘، سپریم کورٹ سے تو شیخ رشید کا سیاسی تابوت نکل چکا ہے‘ اب لال حویلی سے ان کا جنازہ نکلے گا اور انہیں‘ کاندھا دینے کے لیے 4 لوگ بھی نہیں‘ ملیں گے۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جانب سے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر عابد شیر علی نے کہا کہ جب ان کے بیٹے ارسلان افتخار پر کرپشن کے الزامات لگے تو اس وقت ان کی اخلاقیات کہاں سو رہی تھیں۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔