مشال قتل کیس ٗپروفیسر ضیاء اللہ ہمدرد کے مجسٹریٹ کے سامنے حیرت انگیزانکشافات،واقعہ نیا رُخ اختیارکرگیا

مردان(این این آئی)مشال قتل کیس میں یونیورسٹی انتظامیہ کے دو ملازمین اور شعبہ صحافت کے پروفیسر ضیاء اللہ ہمدرد نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرادیا۔ذرائع کے مطابق مشال قتل کیس میں نامزد تین ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا،ملزمان میں یونیورسٹی انتظامیہ کے دو افراد بھی شامل تھے۔
یونیورسٹی کے جرنلزم ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ضیاء اللہ ہمدرد بطور گواہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئے،
اس خبر کو بھی پڑھیں
طلبہ مشال خان کی لاش کو کیوں ڈھونڈتے رہے‘، گاڑیوں کی تلاشی کیوں لی جاتی رہی؟ حیران کن وڈیو منظر عام پر
ضیاء اللہ ہمدرد نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ مشال خان کو ذاتی طور پر جانتے تھے‘،مشال خان کبھی گستاخی کا مرتکب نہیں‘ ہوا۔واقعہ کے وقت ایس ایس پی آپریشن اور یونیورسٹی انتظامیہ ایک ساتھ موجود تھی ٗ میں نے ایس ایس پی آپریشن کو مشال کو بچانے کا کہا تاہم اس نے ساری زمہ داری ڈی ایس پی پر ڈال دی،کیس کے دیگر تین ملزمان کے بیانات قلمبند کرکے انہیں‘ مردان جیل منتقل کردیا گیا ہے۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔