’’گو،نواز،گو‘‘کے تشویشناک واقعے کاڈراپ سین

لاہور( آئی این پی)وفاقی وزیر ریلو ے خواجہ سعد رفیق کی ریلوے اسٹیڈیم میں 62ویں انٹر نل ڈویژنل اتھلیکٹس چمپئن شپ کی اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی روانگی کے موقعہ پر شرکاء کے ’’گو نوازگو ‘‘پولیس نے چار طلبہ کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا‘وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی ہدایت پر پولیس نے تمام طلباء کو رہا کر دیا ‘ وزیر اعظم نوازشریف نے بھی طلباء کی گر فتاریوں کو سخت نوٹس لے لیا تفصیلات کے مطابق ریلوے اسٹیڈیم میں اتھلیکٹس چمپئن شپ کی اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی خواجہ سعد رفیق جیسے ہی اپنا خطاب ختم کرکے روانہ ہوگئے‘ تو اس دوران اسٹیڈیم میں موجود کچھ طلبہ نے گو نواز گو کے نعرے لگانے شروع کر دئیے اور انہیں‘ دیکھتے ہوئے دوسرے طلبہ نے بھی نعرے بازی شروع کر دی ۔ اس موقع پر پولیس کے جوان اسٹیڈیم کے اسٹینڈز پر پہنچ گئے‘ جہاں ان کی طلبہ سے تلخ کلامی ہوئی ۔ پولیس نے چار طلبہ کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا ۔ بتایا گیا ہے‘ کہ جن طلبہ کو حراست میں لیا گیا ہے‘ ان کا تعلق کراچی سے ہے‘ اور ان کی ساتھی طالبات پولیس کی کارروائی پر زارو قطار رونا شروع ہو گئیں ۔ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے‘ کہ وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق کی تقریر کے دوران کوئی مداخلت نہیں‘ ہوئی۔چند نوجوانوں نے وزیر ریلویز کی تقریر کے بعد نعرے لگانے کی کوشش کی تاہم ان کی شناخت نہیں‘ ہو سکی اس لئے ریلوے پولیس نے کسی طالب علم کو گرفتار نہیں‘ کیا۔ریلوے ایتھلیٹ چمپئن شپ ایک غیر سیاسی تقریب تھی جسے سازش کا نشانہ بنایا گیا۔وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے تقریب میں سیاسی سوالوں کے جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ترجمان کا کہنا تھاکہ ہماری درخواست ہے‘ کہ پاکستان تحریک انصاف غیر سیاسی ایونٹس کو سیاسی نہ بنائے۔ریلوے سکولوں کے طالب علم ہمارے بچے ہیں‘ انہیں‘ کیسے گرفتار کیا جا سکتا ہے‘؟۔گرفتاریوں کے حوالے سے منفی اور جھوٹا پروپیگنڈہ نہ کیا جائے۔علاو ہ ازیں ریلوے پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ ریلوے اسٹیڈیم سے کسی ایتھلیٹ کو گرفتار اور نہ ہی کوئی مقدمہ درج کیا گیا ۔سیاسی نعرے بازی کرنے پر تصادم کے خطرے پر چار کھلاڑیوں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا تاہم وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق کی ہدایت پر حفاظتی تحویل میں لئے گئے‘ ایتھلیٹس کو چھوڑ دیا گیا۔ پولیس کسی ہنگامے یا تصادم کو روکنے کے لئے کارروائی پولیس کی ذمہ داری ہے‘ جو اس نے ادا کی ۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔