نوازشریف کی جانب سے آج کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست منظور

اسلام آباد: احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے آج کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست منظورکرلی گئی۔ ایکسپریس نیوزکے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف، بیٹی مریم نواز اورداماد کیپٹن (ر) صفدرحسین عزیزیہ، فلیگ شپ، ایون فیلڈ پراپرٹیزکے حوالے سے دائرنیب ریفرینسزکی سماعت کے لیے احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی عدم پیشی پرمعاون وکیل کی جانب سے آج کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست جمع کرائی گئی۔ درخواست میں موقف اختیارکیا گیا کہ تینوں ریفرنس یکجا کرنے کی درخواست پرہائیکورٹ میں فیصلہ محفوظ ہے‘، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کنفیوژن سے بچنے کیلئے مختصرحکم نہیں‘ دیا، جس کے باعث کیس کی سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی جائے، جس پرنیب پراسیکیوٹر کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ ہائیکورٹ نے حکم امتناع جاری نہیں‘ کیا۔ وکیل کیپٹن (ر) صفدرکی جانب سے کہا گیا کہ امید ہے‘ ہائیکورٹ اسی ہفتے فیصلہ سنا دے گی، اگرتاخیر ہوئی تو اگلے ہفتے تین دن لگا تار کیس کی سماعت رکھ لی جائے، جس پر  نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جب عدالت نے حکم امتناع نہیں‘ دیا تو کیس ملتوی نہیں‘ کیا جا سکتا جب کہ عدالت نے فیصلہ سنانے کا مخصوص وقت نہیں‘ بتایا۔ نیب جج محمد بشیرنے استفسارکیا کہ وکیل خواجہ حارث کہاں ہیں‘، جس پر معاون وکیل  نے کہا کہ خواجہ حارث سپریم کورٹ میں مصروف ہیں‘ اورسماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی اصل وجہ خواجہ حارث کی مصروفیت ہے۔
 نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ عدالت نے یہ نہیں‘ کہا کہ کب فیصلہ سنائیں گے، ہو سکتا ہے‘ دو ماہ میں بھی فیصلہ نہ آئے۔ جج نے استفسارکیا کہ آپ نے تینوں ریفرنسز میں ایک فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی ہے‘، جس پرمعاون وکیل نے کہا کہ ہم نے متبادل استدعا بھی کی ہے‘ کہ کم از کم دو ریفرنسز ہی یکجا کر دیئے جائیں۔ جج محمد بشیر نے استفسارکیا کہ پھرہم پیرکو ایک اورگواہ بھی بلا لیتے ہیں‘ جس پر نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ پہلے بلائے گئے‘ گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے دیں، معاون وکیل نے کہا کہ ان کے پاس گواہ ہی ختم ہوگئے‘ ہیں‘، تفتیشی افسرکے سوا کوئی مرکزی گواہ نہیں‘، جس کے بعد عدالت نے سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی۔ اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کی پیشی پراحتساب عدالت کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے‘ تھے‘، پولیس کی بھاریہ نفری بھی تعینات کی گئی تھی اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو جوڈیشل کمپلیکس میں آنے کی اجازت نہیں‘ تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here