جب بھی آمریت مسلط کی گئی پیپلزپارٹی نےعلمِ بغاوت بلند کیا، بلاول بھٹوزرداری

اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے‘ کہ ملک میں جب بھی آمریت مسلط کی گئی یا شہریوں کے حقوق سلب کیے گئے‘ تو پیپلزپارٹی نے علمِ بغاوت بلند کیا اور ہمیشہ مشکل حالات میں ملک کو سنبھالا۔ اسلام آباد میں منعقدہ پیپلزپارٹی کے 50ویں یوم تاسیس  کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آمروں ، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف جدوجہد کرنے پر قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کو خراج ِ تحسین پیش کرتے ہیں‘ اور 50 سالہ دور کے بعد آج تیسری نسل ہے‘ جو اس علَم کو اٹھائے جدوجہد کے میدان میں سرگرعمل  ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو پہلا آئین دیا،ریاستی ادارے قائم کیے، لاہور میں اسلامی ممالک کی کانفرنس بلا کر عالمِ اسلام کو اکٹھا کیا اور نیوکلیئرپاور کی بنیاد رکھ کر ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نوازشریف نے امیر المومنین بننا چاہا اور آئین میں ترمیم کرنے کی کوشش کی لیکن شہید بے نظیر بھٹو نے نوازشریف کے منصوبے کو خاک میں ملادیا، بے نظیر نے پرویز مشرف کی دہشت گردی سے متعلق منافقانہ پالیسوں پر آواز اٹھائی اور جب وہ واپس آئیں تو پورے ملک میں دہشت گردوں کو للکارا، انہوں نے کہا کہ دہشت گرد سوات سے پاکستان کا پرچم اتارنا چاہتے تھے‘ لیکن بے نظیر نے کہا کہ وہ ملک کو دہشتگردوں سے بچائیں گی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ شہید بی بی نےآمر کے مارشل لاء کے خلاف جدوجہد کی اور مارشل لا ریگولیشن کا خاتمہ کیا جب کہ بینظیربھٹو کوغریبوں کی طاقت پر بھروسہ تھا اس لیے سر پر لگنے والی لاٹھیاں بھی ان کی جدوجہد کو نہ روک سکیں اور نہ ہی بے نظیر نے عوام کے لیے جدوجہد چھوڑی، 30 سال سیاست اور 4 سال اقتدار میں رہنے والی شہید بی بی نے خواتین کے تحفظ کے لیے بہت اقدامات کیے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی میراث ہے‘ اور ہم اس کے وارث، ہم اقتدار اپنی ذات یا پارٹی کے لیے نہیں‘ بلکہ عوام کے لیے چاہتے ہیں‘ جب کہ ہم ملک بچانا چاہتے تھے‘ اور جمہوریت واپس لانا چاہتے تھے‘ اس لیے آصف زرداری نے پاکستان کھپے اور میں نے جمہوریت بہترین انتقام کا نعرہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سندھ میں صحت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہی ہے‘، ہم ملکی دولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم چاہتے ہیں‘، پاکستان کو حقیقی سماجی جمہوری ملک بنائیں گے۔ اس سے قبل آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے پاکستان کو نئی شناخت دی اور بلوچستان کو حقوق دیے جب کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں‘ اور مراعات بڑھائیں گے، آمروں کو ہمیشہ کہتا تھا کہ ملک میں ان کا کوئی مستقبل نہیں‘ ہے‘، آج مشرف ملک  سے باہر چھپا پھرتا ہے‘ اور وہ سیاست میں تبدیلی لانے کی کوشش کررہا ہے‘ لیکن کامیاب نہیں‘ ہوگا۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین نے کہا کہ ہم نے 2 بار نوازشریف کا جمہوریت پر ساتھ دیا لیکن میاں صاحب نے ملک کو کنگال کردیا ہے‘، ایک بار جب وہ دھاندلی زدہ الیکشن میں منتخب ہو کرآئے اور دوسری بار عمران خان کے دھرنے کے دوران ان کے ساتھ کھڑے ہوئے لیکن اب جمہوریت کے لیے نوازشریف کے ساتھ کھڑے نہیں‘ ہوں گے بلکہ ان سے لڑیں گے اور مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی جمہوریت لائیں گے جب کہ ’گاڈ فادر‘ اور عمران خان کو سمجھ نہیں‘ آرہی ہے‘ کہ آپ کے پاس کچھ ہوگا تو عوام کو دیں گے جب کہ اب جو کچھ ہوگا ووٹ کے ذریعے ہی ہوگا۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے‘ اور بھارت کو اسے نہیں‘ لینے دیں گے اور نہ ہی پاکستان کو نیپال بننے دیں گے، ہم کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں‘ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرکے افغانیوں کو اپنا دوست بنائیں گے، افغانستان سے اچھے مراسم چاہتے ہیں‘ اور  یہ نہ سمجھیں کہ اس وقت صرف افغانستان مشکل میں ہے‘ بلکہ پاکستان بھی مشکلات کا شکار ہے‘ لیکن دونوں ممالک مل کر سرحدوں کو محفوظ کریں۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔