مصر سے دریافت ہونے والی چار ہزار سال پرانی ممی کا معمہ حل

4 ہزار سال پرانی ممی مصر سے 2015ء میں دریافت ہوئی تھی واشنگٹن: مصر میں سو سال قبل ملنے والی ممی کی شناخت کے حوالے سے اہم انکشاف نے ماہرین آثار قدیمہ کے مخمصے کو حل کر دیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق 1915ء میں مصر کے نواحی علاقے بیت البرشہ کے قبرستان میں وقع ایک مقبرے سے دریافت ہونے والی چار ہزار سال پرانی ممی کے سر کو ’ایف بی آئی‘ نے فرانزک لیب کی مدد سے شناخت کرلیا ۔ یہ ممی اُس وقت دریافت ہوئی جب ماہرین آثار قدیمہ مصر اور یورپ میں صدیوں تک حکمرانی کرنے والے شاہی خاندان کے چو گورنر اور ان کی اہلیہ کے مقبرے پر کام کر ر ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : نایاب پیالہ 5 منٹ کے دوران اربوں روپے میں فروخت تاہم ماہرین آثار قدیمہ دریافت ہونے سر کی جنس کا تعین ن کر سکے ۔ کچھ کا خیال تھا کہ یہ عظیم شاہی خاندان کے گورنر کا سر جب کہ چند محققین اسے گورنر کی اہلیہ کا سر قرار دیتے ۔ جنس کو جانچنے کے لیے ممی کے سر کے کئی ٹیسٹ کیےلیکن ناکامی کا سامنا رہا تھا کیوں کہ ماہرین کو ڈی این اے کا سیمپل ن مل پا رہا تھا۔ ایف بی آئی کی بائیولوجسٹ نے اس مشکل کو حل کرنے کی ٹھانی اور ممی کے دانت کو باریکی کے ساتھ ڈرل کر کے دانت کے اجزاء کو کیمیکل سے ملا کر ڈی این اے کی کاپی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ ڈی این اے کی جانچ میں کروموسوم کی تعداد اور ساخت سے پتا چلا کہ ممی کا یہ سر ایک مرد یعنی گورنر کا ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : سعودی عرب میں پاکستانی سمیت 6 مجرموں کے سر قلم واضح ر کہ عہد قدیم میں اہم شخصیات کی لاش کو خاص عمل کے ذریعے حنوط کیا جاتا تھا جسے ’ممی‘ کہا جاتا ۔ چوں کہ یہ ممی ریگستانی علاقے سے دریافت ہوئی تھی اور ریت کے ذرات کے باعث ممی کے سر کے کسی حصے سے ڈی این اے کا حصول ناممکن نظر آ رہا تھا۔ ڈی این اے ریگستان کے گرم اور خشک موسم کے باعث ٹوٹ جاتےاس لیے ان کا مشاہدہ کرنا مشکل ہوجاتااس سے قبل 2005 ء میں ڈی این اے کا سیمپل لینے کی کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply