روشنی سے چلنے والا انتہائی مختصر کیمرا ایجاد

مشی گن یونیورسٹی میں تیار کردہ دنیا کے مختصر ترین ویڈیو کیمرے کا سرکٹ مشی گن: یہ دنیا موبائل اور اسمارٹ فون کیمروں سے بھری ہوئیلیکن اب اتنا مختصر ویڈیو کیمرا تیار کرلیا گیاایسے درجنوں کیمرے آپ کی چھوٹی انگلی کے ناخن پر سماسکتے ۔ دلچسپ بات یہکہ ان چلانے کے لیے کسی بیٹری کی ضرورت ن اور یہ روشنی کی توانائی سے کام کرتے ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : ذیا بیطس کے مرض کو جڑ سے ختم کرنے کا علاج ایک مچھلی میں دریافت ایسے خرد بینی کیمرے عام ہوجانے کے بعد گویا دیواروں میں بھی دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے گی لیکن کیمرے نظر ن آئیں گے۔ اسی بنا پر ان جاسوسی اور دوسروں پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ انقلابی اور خردبینی ویڈیو کیمرا یونیورسٹی آف مشی گن کے ماہرین نے تیار کیا ۔ خردبینی کیمرے کی تیاری میں خیال رکھا گیاکہ یہ عین وہی روشنی استعمال کرے جس میں یہ تصویر یا ویڈیو بناتا ۔ ماہرین نے اس کی تیاری کے لیے فوٹو وولٹائک سیل میں دو طرح کی تبدیلیاں کی ۔ اول یہ روشنی کی شکل میں پڑنے والی توانائی جمع کرتااور دوم یہ اس کی مقدار کو نوٹ بھی کرتا رہتا ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : انسانی شکل والا کتا سوشل میڈیا پر مشہور ہوگیا اس سے قبل چیلنج یہ تھا کہ فوٹو وولٹائک سیل ایک وقت میں ایک کام کرتا تھا یعنی یا تو اس سے ویڈیو بنالی جائے یا پھر وہ بجلی بنالے۔ مشی گن یونیورسٹی کے یوسک یون اور ان کے ڈاکٹریٹ کے شاگرد سنگ یون پارک نے اس مسئلے کو تحقیق کے بعد حل کیا ۔ اس کے لیے روشنی جمع کرنے والا جو سیل بنایا گیااسے بالکل روشنی روکنے والے کی بجائے تھوڑا شفاف بنایا گیا ۔ اس طرح روشنی سے بجلی بنانے والے سنسر سے بھی تھوڑی روشنی گزرجاتی جو کیمرے کے کام آتیاور یوں دونوں کا کام چلتا رہتا ۔ اس طرح بیک وقت یہ سنسر ویڈیو بناتا اور بجلی بھی بناتا ۔ اس کی دوسری اہم بات یہکہ یہ بہت ہی چھوٹااتنا چھوٹا کہ ایک معمولی دھبہ دکھائی دیتا ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : اجوائن کینسر، گٹھیا اور دل کی بیماریوں سے نجات کیلئے مفید دنیاکے سب سے چھوٹے ویڈیو کیمرے سے ابتدائی طور پر تصویر بنائی گئی۔ بائیں جانب بنجامن فرینکلن کی تصویر کے سات فریم فی سیکنڈ اور دائیں جانب 15 فریم فی سیکنڈ ۔ تاہم ماہرین نے اعتراف کیاکہ وہ تھوڑی سی تبدیلی سے ویڈیو فریم کی تعداد بڑھا کر اسے مزید بہتر بناسکیں گے۔ بلکہ کم روشنی میں بھی فریم کی تعداد بڑھائی جاسکتی ۔ ماہرین کے مطابق اس کیمرے میں بیٹری لگانے کی کوئی ضرورت ن اور یہ مسلسل سورج کی معمولی روشنی سے بھی چلتا ر گا۔ اس لحاظ سے یہ ایک بہترین اور دکھائی نہ دینے والا جاسوس کیمرا ثابت ہوسکتا ۔ تاہم اب بھی یہ ایجاد ابتدائی مراحل میںاور اسے بازار تک آنے میں کئی برس لگ سکتے ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply