موسمیاتی تبدیلی سے دریا کا رخ بدل گیا

ٹورانٹو: جدید تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک دریا نے اپنا رخ تبدیل کیااور ماہرین کے مطابق اس کی وجہ آب و ہوا میں تبدیلیاں (کلائمٹ چینج) ۔ گزشتہ برس کے وسط میں کینیڈا کے علاقے یکون میں ایک بہت بڑا برفانی گلیشیئر کھسکا تھا اور اس سے بہنے والا وہ پانی جو ایک دریا میں جاتا تھا اب دوسرے دریا میں ملنے لگا۔ اس سے یکون کی سب سے بڑی جھیل کو پانی کی فراہمی متاثر ہوئی اور سارا میٹھا پانی اب بیرنگ سمندر کی بجائے الاسکا کے جنوب میں بحرالکاہل میں گرنے لگا ۔ ماہرین نے اس عمل کو’’دریا کی فوری ضبطگی‘‘ قرار دیااور ماضی میں ایسے واقعات ہوتے رلیکن اتنی تیزی سے دریا کا بہاؤ بدلنے کا کوئی واقعہ تاریخ کے علم میں اب تک ن آسکا۔ دریا پر کام کرنے والے مرکزی سائنسداں کا کہنا کہ یکون کے علاقے میں واقع رخ بدلنے والے اس دریا کا نام ’’سلمس ریور‘‘ ۔ اب یہ گلیشیائی بہاؤ کی وجہ سے اپنا رخ بدل چکا ۔ اس میں پانی کی سطح مسلسل کم ہورہیاور کنارے کے پتھر اور ریت واضح ہور ۔ نیچرجیوسائنس میں شائع رپورٹ کے مطابق سلمز دریا میں پانی کی رکاوٹ سے اس علاقے کی سب سے بڑی اور خوبصورت جھیل کی بقا کو خطرہ لاحق ہوگیا ۔ گزشتہ اگست جھیل کا پانی کم ترین درجے پر تھا جس سے وہاں رہنے والی دو آبادیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیاکہ جھیل میں پانی کم ہوتے ہوتے وہاں تک جاپہنچے گا کہ یہ ایک بند طاس (بیسن) کی صورت اختیار کرجائے گا۔ اس کے بعد اس کی حیاتیات، کیفیات اور بہت کچھ تبدیل ہوکر رہ جائے گایہ کیفیت کیسکا ولش گلیشیئر پگھلنے سے پیدا ہوئی جو 1956 سے 2007 تک گھلتے پگھلتے ہوئے نصف رہ گیا ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply