پاکستانی میناؤں میں ایک نئی بیماری کا انکشاف

پاکستانی میناؤں
پاکستانی میناؤں

پاکستانی مینا میں ایک ایسا مرض دریافت ہواجو پولٹری اور دیگر پرندوں تک پھیل سکتا ۔

فیصل آباد: پاکستان میں پائی جانے والی خوبصورت میناؤں میں ایک نئے مرض کا انکشاف ہواجس کی ایک تبدیل شدہ کیفیت اس سے قبل برطانیہ کی دو تہائی سبز فنچ کو ہلاک کرچکی ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : وفادار پرندہ جو 16 برس سے ہزاروں کلومیٹر دور زخمی مادہ سے ملنے آرہا

یونیورسٹی آف ایسٹ اینجلیا اور پاکستانی ماہرین نے پاکستانی میناؤں پر تحقیق کے بعد کہاکہ برصغیر پاک وہند میں پائی جانے والی مینائیں اصل میں حملہ آور انواع (انویسیو اسپیشیز) میں شمار ہوتی ۔ پاکستانی میناؤں میں ایک مرض ’ٹریکومونوسِس‘ کا انکشاف ہواجو اس مرحلے  پر ان کےلیے ہلاکت خیز تو ن لیکن ماہرین کے مطابق یہ مرض ان سے دیگر اقسام کے پرندوں تک منتقل ہوسکتا ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : یہ پیڈ ہاتھ لگاتے ہی جراثیم اور وائرس ختم کردیتا !

پرندوں کا یہ مرض ایک طفیلیے (پیراسائٹ) سے پھیلتااور برطانیہ میں 2005ء میں یہ کبوتروں میں دریافت ہوا۔ اس کے بعد چہچہانے والے پرندوں کی آبادی میں پھیل گیا اور سبز فنچ کی ہلاکت کی وجہ بنا اور اب یہ حالکہ برطانیہ میں ان کی آبادی 43 لاکھ سے کم ہوکر 2016 میں صرف 15 لاکھ رہ گئی ۔

ایسٹ اینجلیا یونیورسٹی اور زرعی یونیورسٹی پاکستان کے ماہرین نے فیصل آباد کے نواح میں 167 میناؤں کو قید کرکے ان پر ٹیسٹ کیے تو ان کی 20 فیصد آبادی اس مرض کی شکار نکلی اور ان کی بیماری برطانوی پرندوں کے مرض سے مختلف نکلی۔ یہ مینائیں کمزور اور بیمار تھیں لیکن مرض ان کےلیے فی الحال ہلاکت خیز ن ۔

پاکستانی مینا پر تحقیق کرنے والے ایک ماہر ڈاکٹر کیون ٹائلر نے کہا کہ مینائیں ہر جگہ نشوونما پاتیاوراس کے بہت امکانات کہ ان کی یہ بیماری دیگر پرندوں تک پھیل سکتی ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : فیصل آباد میں یونیورسٹی طالبہ کے بعد 7 سالہ بچی بھی زیادتی کے بعد قتل

ڈاکٹر کیون نے کہا ’مینا پولٹری کے ساتھ رہتے ہوئے مرغیوں میں برڈ فلو پھیلا چکیاور یہ پولٹری فارمز کےلیے خطرے کی گھنٹی تاہم اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورتکہ مینا کا یہ مرض اس وقت کس کیفیت میںاور کتنے امراض پھیلا سکتا ۔‘

اس تحقیق میں پاکستانی اسکالرز حسن علی فاروق ، حماد احمد خان اور عبدالواحد خان نے بھی اہم کردار ادا کیاجن کا مقالہ جرنل آف پیرا سائٹالوجی میں 23 اپریل کو شائع ہوا ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : پلاسٹک کھانے والا ’نیا‘ اینزائم دریافت کرلیا گیا