پانی کے بدلتے ہوئے درجہ حرارت سے تیرنے والا روبوٹ

موٹر، بیٹری اور الیکٹرانک کے بغیر تیرنے والے روبوٹ کی فرضی تصویر۔ کیلیفورنیا: کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور زیورخ کے سائنسی ادارے ای ٹی ایچ کے انجینئروں نے دنیا کا پہلا ایسا روبوٹ بنایاجس میں کوئی موٹرن، بیٹری بھی ن اور وہ صرف درجہ حرارت میں تبدیلی سے اپنی صورت تبدیل کرتے ہوئے آگے بڑھتا ۔ تیرنے والا یہ روبوٹ اسامہ بلال اور تیان چین نے بنایاجو اپنی شکل بدل کر پانی میں تیرتا رہتا ۔ دلچسپ بات یہکہ روبوٹ درجہ حرارت میں تبدیلی سے خود کو بدلتااور آگے بڑھتا ۔ روبوٹ ایک نئی ٹیکنالوجی کے تحت تیار کیا گیاجو حرارت یا روشنی کو استعمال کرتے ہوئے اپنا کام انجام دیتے ۔ ان میں روشنی سے آگے بڑھنے والے روبوٹ کیڑے، گرمی میں کھلنے اور پھیلنے والے اوریگامی آلات اور شکل بدلنے والے اسمارٹ مٹیریلز شامل ۔ یہ نئی تخلیق حرارت سے حساس پولیمر سے بنائی گئی ۔ عام حالت میں یہ مڑا ہوتااور گرمی پاتے ہی سیدھا ہوجاتا ۔ اس صلاحیت پر روبوٹ پر باریک چپو لگائے جو کم یا زیادہ ہوتی ہوئی حرارت پر آگے پیچھے ہوتےاور اس طرح روبوٹ پانی میں تیرنے لگتا ۔ پولیمر کی مختلف موٹائی کی وجہ سے اس کے حصے اپنے اپنے لحاظ سے متحرک ہوتےجبکہ روبوٹ کےلیے موٹر اور بیٹری کی کوئی ضرورت ن ہوتی۔ روبوٹ کے تخلیق کار اسامہ بلال نے بتایا، ’سادہ حرکات پر مشتمل روبوٹ کو اس طرح بنایا گیاکہ یہ بہت پیچیدہ کام بھی کرسکتا ۔‘ فی الحال اس روبوٹ کے استعمال محدوداور یہ ایک مرتبہ ہی آگے بڑھتاجس کےبعد ہاتھ سے دوبارہ اسے پہلی حالت میں لانا پڑتا ۔ اگلے مرحلے پر اسے خودکار انداز میں آگے بڑھنے کے قابل بنایا جائے گا جس کےلیے دیگر مٹیریلز پر بھی کام کیا جائے گا۔ واضح ر کہ روبوٹ پر کام کرنے والے مرکزی ماہر ڈاکٹر اسامہ بلال کا آبائی تعلق مصر سےاور اسمارٹ مٹیریلز ان کی تحقیق کا میدان ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply