بجلی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سے کھانے کی تیاری کا کامیاب تجربہ

bijli

اگرچہ یہ بہت خوش ذائقہ ن لیکن سائنسدانوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بجلی سے پروٹین بھرا بنیادی کھانا تیار کیا جو دنیا سے بھوک کے خاتمے یا خلائی مسافروں کے طویل سفر کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتا ۔

پاؤڈر کی شکل میں تیار ہونے والا یہ کھانا مفت میں دستیاب کاربن ڈائی آکسائیڈ اور شمسی پینل کی بجلی سے با آسانی تیار کیا جا سکتااور یہ مویشیوں کی خوراک بھی بن سکتا ۔ پاؤڈر میں 50 فیصد پروٹین اور 25 فیصد کاربوہائیڈریٹس شاملجو فوری توانائی پیدا کر سکتے ۔

فِن لینڈ میں وی ٹی ٹی ٹیکنکل ریسرچ سینٹر کے سینیئر سائنسداں ڈاکٹر جوہا پیکا پٹکائنن نے کافی کپ جتنے ’پروٹین ری ایکٹر‘ بنائے جس میں پہلے چند خردبینی جاندار (خردنامیے یا مائیکروبس) پہلے سے رکھے جبکہ ان میں پانی، کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل کی گئی۔

اس کے بعد بجلی دے کر برق پاشیدگی کا عمل شروع کیا گیا تو پیچیدہ سالمات ٹوٹاور تھوڑی سی مقدار میں پروٹین والا پاؤڈر ملا جو غذائیت کے لحاظ سے بنیادی خوراک کے برابر تھا۔ 15 روز میں 4 چھوٹے ری ایکٹرز سے چمچہ بھر پاؤڈر بنایا جا سکتاجسے شمسی توانائی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے عمل سے پیدا کیا جاسکتا ۔ اگرچہ یہ مقدار بہت تھوڑیلیکن بڑے ری ایکٹر سے غذائی پاؤڈر کی زیادہ مقدار بھی بنائی جا سکتی ۔

جوہا کے مطابق اس غذا کے بنیادی اجزا ہماری ارد گرد فضا میں موجود اور مستقبل میں اسے ریگستانی خطوں اور خوراک کے قحط میں استعمال کرکے لوگوں کی جانیں بچائی جاسکیں گی جو بنیادی پروٹین تیار کرتی ۔ دوسری جانب ماہرین اس سے جانوروں کا چارہ تیار کرنے کی کوشش کرر ۔ اس طرح ہم ضرورت کے تحت بنیادی کھانا تیار کرسکتے ۔

اس پر کام کرنے والے ایک اور ماہر جیرو اہولہ کہتےکہ روایتی غذا میں زمین، وقت، پانی اور مناسب درجہ حرارت درکار ہوتاجبکہ پروٹین ری ایکٹر کے لیے بہت جگہ کی ضرورت ن ہوتی اور جانوروں کے فارم میں ہی مویشیوں کا کھانا تیار کیا جا سکتا ۔

اگلے مرحلے میں ماہرین اس کا پائلٹ پروڈکشن پلانٹ بنا ر تاکہ لیبارٹری میں کھانا بنانے والا ایک بڑا پلانٹ تعمیر کیا جا سکے تاہم بڑی مقدار میں کھانا بنانے میں کامیابی کے لیے مزید 10 سال تحقیق کرنا ہوگی تاکہ اس ٹیکنالوجی کو عام کیا جاسکے اور کم خرچ خوراک تیار کی جا سکے۔