دنیا کا پہلا مچھر بھگانے والا اسمارٹ فون متعارف

machar bhaganay wala smart phone

جنوبی کوریا: جنوبی کوریا کی مشہور موبائل ساز کمپنی ایل جی نے دنیا کا پہلا ’مچھر بھگانے والا‘ اسمارٹ فون بنانے کا دعویٰ کیا ۔

پاکستان میں بھی اکثر گھرانوں میں مچھر بھگانے والے ریپیلر اور اسپرے خریدے جاتےلیکن افریقا اور دیگر ایشیائی ممالک میں مچھروں کی بہتات انسانی ہلاکتوں کی اب بھی بڑی وجہاور دعویٰ کیا گیاکہ یہ فون الٹراسونک لہریں خارج کرکے مچھروں کو آپ سے دور رکھتا ۔

ایل جی کا سیون آئی اسمارٹ فون بہت مہنگا ن اور اسے گزشتہ ہفتے بھارتی موبائل کانگریس میں پیش کیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فون مچھروں سے پریشان ممالک میں اچھی فروخت حاصل کرسکتا تاہم اس کی تکنیکی خواص زیادہ متاثر کن ن۔

مچھر بھگائے (موسکیٹو اوے ) اس فون کا دوسرا نام بھیجو خون آشام مچھروں کو خاص صوتی لہروں سے دور بھگاتا ۔ اس کی سب سے اہم بات یہکہ مچھر بھگانے والا یہ آلہ ایل جی کی دیگر مصنوعات مثلاً ٹی وی اور ایئرکنڈیشنر سے منسلک ہوسکتا ۔ اس میں نہ ہی کوئی دوااور نہ کوئی کیمیکل بلکہ یہ 30 کلو ہرٹز کی الٹراسونک امواج خارج کرتاجو اس کی کسینگ کی پچھلی طرف سے خارج ہوتی ۔ اس کے ساتھ فون کو سیدھا رکھنے والا ایک اسٹینڈ بھی دستیاب ۔

کمپنی کے مطابق یہ انسانوں کے لیے مکمل طور پر بے ضررجسے پہلے بھارت میں اور اس کے بعد دیگر ممالک میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

تاہم امریکن موسکیٹو کنٹرول ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ 15 برس میں مچھر بھگانے والے الٹراسونک آلات پر 10 مطالعے ہوئےاور یہ تمام آلات مچھر بھگانے میں ناکام ر ۔ اسی بنا پر یہ فون بھی کوئی اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے گا۔ تاہم ایل جی نے کہاکہ اس نے مچھر بھگاؤ فون کو کئی ٹیسٹ سے گزارا ۔ اسے بھارت میں بائیوٹیکنالوجی اینڈ ٹیکسیکولوجی انسٹی ٹیوٹ نے افادیت کا سرٹیفکیٹ بھی دیا ۔