پانی سے ہائیڈروجن ایندھن حاصل کرنے کا ایک نیا طریقہ

واشنگٹن: ماہرین نے سمندری پانی سے صرف سورج کی روشنی کے ذریعے ہائیڈروجن ایندھن تیار کرنے کا کامیاب طریقہ ایجاد کیا۔ اس میں نینومٹیریل کے ذریعے سورج کی روشنی کی موجودگی میں سمندری پانی سے ہائیڈروجن کشید کی جاسکتی ۔ ماہرین کا خیالکہ اس طرح سے توانائی کا ماحول دوست اور کم خرچ طریقہ وضع کرکے دنیا کا ایک بہت بڑا مسئلہ حل کرنے میں مدد مل سکے گییونیورسٹی آف سینٹرل فلوریڈا کے ماہرین نے ہائیڈروجن ایندھن نکالنے کا ایک نیا طریقہ تلاش کیاجس کے لیے دھوپ اور سمندری پانی درکار ہوتا ۔ ’ ہم نے تجربہ گاہ میں فلٹر پانی کی بجائے حقیقی پانی سے ہائیڈروجن بنانے کا راستہ کھولاجو سمندری پانی کے لیے بہت اچھی طرح کام کرتا ،سینیئر سائنسدان یانگ یانگ نے بتایا۔ اب اس سے تیار کردہ ہائیڈروجن فیول سیل اپنی گاڑی میں لگادیجئے جس سے صرف پانی ہی خارج ہوگا۔ اب اس پانی سے دوبارہ ایندھن بنایا جاسکتا ۔ اس لحاظ سے یہ ایک مؤثر اور ماحول دوست طریقہجس سے مسلسل توانائی حاصل کی جاسکتی ۔ عملی طور پر پانی سے ہائیڈروجن بنانا ممکنلیکن ضروریکہ اس میں حاصل شدہ توانائی سے کم توانائی خرچ ہوا اور دوم اس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی کم کم ہو۔ اور یہی وہ چیلنججسے دنیا بھر کے ماہرین حل کرنے کی کوشش کرر ۔ اس سے پہلے بحری پانی سے ہائیڈروجن بنانے کے جو تجربات کیےان میں بہت توانائی صرف ہوتی تھی اور پانی میں نمک کی وجہ سے یہ مزید مشکل امر تھا۔ لیکن اب ماہرین نے نینومٹیریل تیار کیاجو فوٹو کیٹے لسٹ کا کام کرتا۔ جیسے ہی اس پر دھوپ پڑتییہ پانی سے ہائیڈروجن بنانا شروع کردیتا ۔ مٹیریل دھوپ کو اچھی طرح جذب کرتااور سمندری موسم کے لحاظ سے نہایت موزوں بھی ۔ ماہرین نے فوٹو کیٹے لسٹ کو بہتر بنانے کے لیے ٹیٹانیئم آکسائیڈ استعمال کیااور اس میں خردبینی سوراخ کرکے ان سوراخوں پر مولبڈینم ڈائی سلفائیڈ کی تہہ چڑھائیجس سے اس کی کارکردگی دوگنا ہوگئی ۔ تاہم اس ایجاد کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے لیے اسے صنعتی ماڈل تک لے جانا ہوگا۔ اس نظام کے دیگر تجربات بھی بہت حوصلہ افزا برآمد ہوئے ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply