الیکٹرانک چپس کو بجلی دینے اور ٹھنڈا کرنے والی بیٹری

زیورخ: کمپیوٹرہویا موبائل فون ان کی مائیکروچپس اور پروسیسر کوٹھنڈا کرنے کے لیے اضافی پنکھوں اور وینٹی لیشن کی ضرورت ہوتی ہے‘ لیکن اب ایک نئی مائع بیٹری کی ایجاد سے یہ مسئلہ بہت حد تک حل ہوسکتا ہے‘ جو بجلی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک چپس کو ٹھنڈا بھی رکھے گی۔ آئی بی ایم اور ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک چھوٹی ’’فلو‘‘ بیٹری بنائی ہے‘ جو ایک ہی وقت میں مائیکروچپس کو بجلی دیتی ہے‘ تو انہیں‘ ٹھنڈا بھی رکھتی ہے۔
اسے ’’ریڈوکس فلو‘‘ کہتے ہیں‘ جو مائع الیکٹرولائٹس استعمال کرتی ہے۔
یہ الیکٹرولائٹس بڑے پیمانے پر توانائی جمع کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
حال ہی میں ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایسی ہی ایک مائع الیکٹرولائٹ بیٹری بنائی ہے‘ جو 10 سال تک توانائی جمع کرسکتی ہے‘ اور خراب نہیں‘ ہوتی۔ اس طرح یہ بیٹریاں سولر اور ہوائی قوت کی توانائی کو طویل عرصے تک جمع کرسکتی ہیں۔
لیکن ایسی بیٹریوں کو چھوٹا کرکے کسی چپ پر لگانا ایک الگ طرح کا چیلنج ہے۔
اس بنا پر آئی بی ایم اور ای ٹی ایچ زیورخ نے 2 اقسام کے مائع دریافت کیے جو فلو بیٹری الیکٹرولائٹس اور ٹھنڈا کرنے کے ایجنٹ کے طور پر استعمال ہوسکتے ہیں۔
یوں ایک ہی سرکٹ کو بجلی دینے اور اس کی حرارت زائل کرنے کا کام کرسکتے ہیں۔
س کی تیاری کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ سے مدد لی گئی ہے۔
ایک سسٹم پر باریک باریک چینل کاڑھے گئے‘ ہیں‘ جن میں مختلف الیکٹرولائٹس مختلف رفتار سے پمپ کیے جاتے ہیں۔
یہ الیکٹرولائٹس مختلف آئن کو فلو کراتے ہیں‘ اور اس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔
اس طرح ایک مربع سینٹی میٹر چپ یا ویفرپر 1.4 واٹ بجلی بنتی ہے‘ جب کہ پمپنگ کے بعد کچھ توانائی بچ رہتی ہے‘ اور ایک ہی وقت میں یہ گرمی کو دور بھی گرتی ہے۔
فی الحال یہ بیٹری اپنی پیداوار سے زیادہ بجلی استعمال کررہی ہیں‘ جو پمپنگ عمل کے لیے درکار ہوتی ہے‘ تاہم انجینیئروں کی ٹیم اسے مزید بہتر سے بہتر بناکر اس فرق کو ختم کرنا چاہتی ہے۔
لیکن ماہرین پرامید ہیں‘ کہ اسے لیزر نظاموں، سولر سیل تنصیبات اور کئی اقسام کی بیٹریوں پر آزمایا جاسکتا ہے۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔