سلاد بنانے والا ماہر روبوٹ تیار

سان فرانسسکو: گوگل کے سب سے پہلے ایگزیکٹیو شیف چارلی آئرز نے ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے‘ جو 21 اجزاء استعمال کرتے ہوئے ایک ہزار سے زائد اقسام کے سلاد بڑی مہارت سے تیار کرسکتا ہے‘ جب کہ سلاد کی ایک ڈش تیار کرنے میں اسے ایک منٹ سے بھی کم وقت لگتا ہے۔
آئرز نے یہ روبوٹ اسٹارٹ اپ کمپنی کے تعاون و اشتراک سے تیار کیا ہے‘ اور اسے ’’سیلی‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
یہ اسٹارٹ اپ کمپنی خاص طور پر اس مقصد کے تحت بنائی گئی ہے‘ کہ مستقبل میں انسانوں کو خود سے کھانا پکانے کی جھنجھٹ سے نجات دلائی جائے اور وہ فائیو اسٹار ہوٹلوں اور مہنگے ریسٹورینٹس میں پیش کیے جانے والے ذائقے دار کھانوں سے گھر ہی پر باکفایت انداز میں لطف اندوز ہوسکیں۔ کمپنی کا ارادہ ہے‘ کہ اس سال کے اختتام تک ایسے 125 روبوٹ سان فرانسسکو بے ایریا میں مختلف مقامات پر نصب کردیئے جائیں گے تاکہ قریبی دفتروں میں کام کرنے والے ملازمین دوپہر کے وقت چکنائی سے بھرپور نقصان دہ کھانوں کے بجائے صحت بخش سلاد سے مستفید ہوسکیں۔ جہاں تک اس کی شکل و صورت کا تعلق ہے‘ تو یہ روبوٹ کے بجائے کسی الماری کی طرح دکھائی دیتا ہے‘ جس میں ایک طرف سلاد کے لیے درکار اجزاء رکھے ہوتے ہیں‘ جب کہ دوسری جانب سے تیار شدہ سلاد کی پلیٹ نکالی جاسکتی ہے۔
یہ سلاد کی ایک ہزار سے زائد مختلف اقسام تیار کرسکتا ہے‘ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے‘ کہ جب اس میں ہر قسم کی سلاد بنانے کے تمام اجزاء بیک وقت موجود ہوں۔ آپ اس کے ڈیجیٹل مینیو بورڈ میں سے اپنی پسند کی سلاد منتخب کرکے تیار کرواسکتے ہیں‘ بشرطیکہ اس سلاد کے اجزاء روبوٹ کے اندر موجود ہوں۔ اگر آپ کسی سلاد کو نام سے نہیں‘ پہچانتے تو بھی کوئی بات نہیں‘، روبوٹ کو ان اجزاء کی فہرست دیں جنہیں‘ آپ سلاد میں شامل کرنا چاہتے ہیں‘ اور یہ اپنی ’’مصنوعی ذہانت‘‘ استعمال کرتے ہوئے خود فیصلہ کرے گا کہ آپ کےلیے کس قسم کی سلاد تیار کی جائے۔ روبوٹ کی تیار کردہ ہر سلاد میں چارلی آئرز کے ہاتھ کا مخصوص ذائقہ پوری طرح موجود ہے‘ جس سے ظاہر ہوتا ہے‘ کہ کھانا پکانے کے میدان میں بھی مشینیں پوری طرح سے انسانی صلاحیتوں کی نقل کرسکتی ہیں۔
اسے بنانے کے لیے تعاون کرنے والی کمپنی کے سربراہ کا کہنا ہے‘ کہ آئرز کی صلاحیت اور مہارت روبوٹ میں منتقل کرنے کے بعد وہ سلاد کے علاوہ دیگر اقسام کے کھانے بنانے والے ’’شیف روبوٹس‘‘ تیار کرنے پر غور کررہے‘ ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب شیف اور باورچیوں کو خیر منانی چاہیے کیونکہ مستقبل میں یہ کام بھی انسانوں سے چھین کر روبوٹس کے سپرد کیا جاسکتا ہے۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔