شوگراوردیگر امراض کی شناخت کرنے والی الیکٹرانک پٹی

کیلیفورنیا: اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کلائی پر پہنی جانے والی ایک حساس پٹی بنائی ہے‘ جو پسینے میں موجود مرکبات سے ذیابیطس، سسٹک فائبروسس اور دیگر امراض کی نشاندہی کرسکتی ہے۔
اس سے قبل پسینے سے بیماریاں معلوم کرنے والے اسٹیکر اور پیوند بنائے جاچکے ہیں‘ لیکن اس کے لیے 30 منٹ تک بدن پر اسے رکھنا ہوتا ہے‘ تاکہ وہ جسمانی نمی کو اچھی طرح جذب کرسکے۔ اس کے برخلاف نئی پٹی کو صرف چند لمحے تک لگا کر مرض کی نشاندہی کی جاسکے گی۔ اس پٹی میں لچکدار سینسر اور مائیکروپروسیسر نصب ہے‘ جو جلد سے چپک کر پسینے کے غدود کو تحریک دیتا ہے‘ ۔ اسے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے ماہرین نے بنایا ہے‘ جو مختلف سالمات (مالیکیول) اور آئن شناخت کرسکتا ہے۔
مثلاً اگر پسینے میں کلورائیڈ زیادہ ہوگا تو یہ سسٹک فائبروسس کی علامت ہوسکتا ہے‘ جب کہ گلوکوز کی سطح زیادہ ہونا ذیابیطس کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
رسٹ بینڈ کا ڈیٹا ڈاکٹر اور اسمارٹ فون کو بھی بھیجا جاسکتا ہے۔
اسے بنانے والے سائنسدانوں نے امید ظاہر کی ہے‘ کہ یہ مستقبل میں سسٹک فائبروسس کی دوا بنانے اور اس کے علاج میں بھی مدد کرسکے گا۔ سسٹک فائبروسس ایک جینیاتی مرض ہے‘ جس میں بلغم پھیپھڑوں اور لبلبے کے اندر جمع ہوجاتا ہے‘ اور اس کاعلاج بہت مشکل ہے‘ کیونکہ سسٹک فائبروسس کی دوا سے صرف چند مریضوں کو ہی فائدہ ہوتا ہے۔
سِسٹک فائبروسِس کا علاج کرتے ہوئے بدن میں کلورائیڈ کی کم اور زیادہ مقدار کے تحت دوا کا ردِ عمل دیکھا جاسکتا ہے۔
اس طرح مریض کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لینا ممکن ہوگا۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔