ارتھ: بُھلائے جانے کے خلاف ایک چیخ

earth
earth

ارمغان شاہد، جن کو پاکستانی عموماً شان شاہد کے نام سے جانتے ، پاکستانی فلم کے سب سے بڑے، سب سے پرانے اور کچھ لوگوں کے مطابق واحد سُپرسٹار ۔ 25، 27 سال فلموں میں کام کرنے کے باوجود اب بھی وہ لیڈ اداکار ہی سمجھے جاتے ، اور بڑے بجٹ کی فلموں کی کاسٹنگ کے وقت اُن کا نام سرِفہرست ہوتا ۔

لیکن اُن کی شخصیت میں کچھ تضادات نمایاں ۔ مثلاً نوّے کی دہائی میں جہاں سلطان راہی کے قتل کے بعد انھوں نے پنجابی فلموں کو اپنے کاندھوں سے سہارا دیا اور پاکستانی فلمی صنعت کو چلائے رکھا، وہاں اُن کی فلمسازوں کو تنگ کرنے کی کہانیاں بھی بہت مشہور تھیں۔ اُن کے نقّادوں کا کہناکہ اُن کے رویّے کی وجہ سے، جس میں فلموں کو پورا وقت نہ دینا اور تین تین فلموں میں بیک وقت کام کرنا شامل تھا، پاکستانی فلم بدحال بھی ہوئی۔

پھر اُن کے تجربے اور اداکاری میں مہارت کو جہاں سب مانتے ، وہاں اُن پر یہ الزام بھی لگتاکہ وہ اپنے مقابل اداکاروں کے ساتھ اچھا سلوک ن کرتے اور اپنے رول کی اہمیت اور شاید ایِگو کی خاطر اُن کے رول کم بھی کروا دیتے ۔ اس کے علاوہ شان جہاں عرصے سے پاکستانی اداکاروں کا انڈین فلموں میں کام کرنے اور اُن کی پاکستان میں نمائش کے خلاف آواز اُٹھاتے ر ، وہاں بطور ہدایتکار اپنی دوسری فلم کے لیے اُنھوں نے خود ایک مشہور انڈین فلم کو ریمیک کرنے کا سوچا۔

اِس حوالے سے شان کو میڈیا میں خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ خاص طور پر اس لیے کہ شان نے نہ صرف ایک انڈین فلم کی کہانی دوبارہ بنائی بلکہ اس کو تبدیل بھی کر دیا اور ایسا تبدیل کیا کہ جہاں اوریجنل فلم کا محور ایک عورت کی کہانی تھی، وہاں شان کی فلم کا محور خود شان بن جاتے ۔

سچ پوچھیں تو میرا اِن دونوں باتوں سے کوئی زیادہ اختلاف ن ۔ پہلی بات تو یہکہ شان نے مہیش بھٹ کی 1982 کی فلم ’ارتھ‘ کو باقاعدہ مہیش بھٹ کی رضامندی سے ریمیک کیا ۔ اور کہانیوں کی، کم از کم میرے خیال میں، کوئی نیشنیلٹی ن ہوتی۔ دوسری بات یہکہ بطور لکھاری اور ہدایتکار شان کو پورا حق حاصلکہ وہ کہانی میں ردّوبدل کریں۔ (ایسی کئی مثالیں موجودجہاں لکھنے والوں نے کسی مشہور کہانی کو نئے زاویے سے پیش کیا ۔) اصل بات دیکھنے کی یہکہ کیا شان کی فلم ’ارتھ ـ دی ڈیسٹینیشن‘ اپنے تئیں کامیاب فلمیا ن اور کیا شان اپنے مقصد کو حاصل کر پاتےیا ن۔