میڈلز اور اسناد مجھے دو وقت کی روٹی نہیں دے سکتے: بشیر بلوچ

55 سال تک لوک گائیکی کرنے والے صوبہ بلوچستان کے معروف گلوکار بشیر بلوچ کا کہناکہ جو میڈل اور اسناد مجھے ملیاچھا ن لگتاکہ میں ان کو سڑک پر رکھ کر بھیک مانگوں۔ مختلف زبانوں میں لوک گیت گانے والے گلوکار کا کہناکہ ان کو دو صدارتی ایوارڈز سمیت مجموعی طور پر 135
بشیر بلوچ
بشیر بلوچ
ایوارڈز اور اسناد ملی ۔ بشیر بلوچ کہتےکہ وہ اس وقت 72 سال کےجبکہ ان کے دونوں بیٹے بہت چھوٹے ۔ ’اگر میرے بچے جوان ہوتے تو میں کسی سے بھی مدد کی درخواست ن کرتا بلکہ میرے بچے کوئی ملازمت کرکے میری خدمت کرتے۔‘ انھوں نے بتایا کہ تنگ دستی کے باعث وہ اپنے بچوں کے لیے مناسب کپڑے تک ن خرید سکتے۔ اپنے مہمان خانے میں بڑی تعداد میں رکھے جانے والے میڈلز اور اسناد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کو دو وقت کی روٹی ن دے سکتے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بادشاہی کے دن گزر، غریبی کے یہ دن بھی گزر جائیں گے لیکن وہ یہ بات کسی طرح بھی مناسب ن سمجھتے کہ وہ اپن
بشیر بلوچ
بشیر بلوچ
ے میڈلز اور اسناد کو سڑک پر پھیلاکر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔ بشیر بلوچ کے مطابق وہ حکومت سے بڑی رقم ن مانگتے بلکہ اتنا مانگتےکہ جس سے ان کو اور ان کے بچوں کو دو وقت کی روٹی مل جائے۔ ’میں حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ اس بڑھاپے میں میرا ساتھ دیں۔‘ وہ کہتےکہ انھوں نے 55 سال تک وطن کی خدمت کی، اس کے لیے گیت گائے، وہ اس کی قیمت ن مانگتے بلکہ روٹی کا ایک ٹکڑا مانگ ر ۔ ان کا کہنا تھا ’اگر مجھے یہ روٹی کا ایک ٹکڑا دیں تو میں بھیک مانگنے سے بچ جاؤں گا۔‘ وہ چاہتےکہ حکومت ان کے لیے 25 یا 30 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرے تاکہ وہ اپنی بقیہ زندگی عزت کے ساتھ گزار سکیں۔
بشیر بلوچ
بشیر بلوچ

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔