مجھے ہندو ریاست میں رہنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہئے، سیف علی خان

ممبئی: بالی ووڈ اسٹار سیف علی خان  نے کہا کہ قوم پرستی اور ہندو ازم بالکل الگ چیز ہے‘ کیوں کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے‘ جہاں اقلیتیں بھی آباد ہیں‘ اور ہندو ازم کی باتیں اقلیتوں کو غیر محفوظ بناتی ہیں۔

بالی ووڈ  کے چھوٹے نواب سیف علی خان  سماجی مسائل پر کم ہی بات کرتے ہیں‘ لیکن اب انہوں نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر پہلی بار لب کشائی کی ہے‘ ۔  بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے پروگرام  میں بالی ووڈ اسٹار سیف علی خان  کا کہنا تھا کہ قوم پرستی غضب کی چیز ہے‘ اور ترقی کے لیے بھی اہم  ہے‘ لیکن قوم پرستی اور ہندو ازم بالکل الگ چیز ہے‘ کیوں کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے‘ جہاں اقلیتیں بھی آباد ہیں‘ اور ہندو ازم کی باتیں اقلیتوں کو غیر محفوظ بناتی ہیں۔
سیف علی خان نے کہا کہ  مجھے ہندو ریاست میں رہنے پر کوئی اعتراض نہیں‘  لیکن قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہئے جب کہ  سیف  کا فلم نگری میں خوف سے متعلق کہنا تھا کہ ہم اس انڈسٹری میں رہتے ہیں‘ جوخوف کی بنیاد پر چلتی ہے‘  لیکن یہی خوف ہمیں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے‘ اور کچھ کرتے رہنے کے لیے کہتا ہے۔

سونو نگم کے اذان سے متعلق توہین آمیز ٹوئٹس پران کا کہنا تھا کہ دنیا میں لوگوں کوبطور اقلیت اپنی موجودگی کا احساس دلانا پڑتا ہے‘ اور اپنی موجودگی قبول کروانی پڑتی ہے‘  لیکن اذان کے دوران آواز کا تیز ہوناایک طرح سے (اقلیت) کے  عدم تحفظ کے احساس سے پیدا ہوتا ہے‘ ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں مسلمان ، یہودی اور عیسائی رہتے ہیں‘ لیکن وہاں بھی اذان لاؤڈ اسپیکرز پر ہی دی جاتی ہے۔

پاکستانی فنکاروں پر پابندی سے متعلق سیف خان کاکہنا تھا کہ مجھے سب کے جذبات کا پوری طرح احساس ہے‘ لیکن یہ پابندی صرف فلم انڈسٹری  کے لیے ہی نہیں‘ ہونی چاہئے  لہذا سب ہی پڑوسی ممالک  سے تجارت کے لیے ایک قانون کی ضرورت ہے۔

واضح رہے‘ کہ بالی ووڈ اسٹارز شاہ رخ خان اور عامر خان کو ملک میں جاری بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی پر بیان دینا مہنگا پڑ گیا تھا اورعامر خان  کوعارضی طور پر بھارت چھوڑ نا پڑ گیا تھا۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔