عدالتی محاذ پر ’’پدماوتی‘‘ کو پہلی کامیابی

padmavti
ممبئی: بھارتی سپریم کورٹ نے ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’پدماوتی‘پر بھارتی وزرا اور ذمہ داران کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن کا فیصلہ نہیں‘ آجاتا وزرا فلم کے خلاف بیان بازی سے باز رہیں۔
ہدایت کار و پروڈیوسر سنجے لیلا بھنسالی کی فلم’پدماوتی‘بھارت میں بڑے تنازعے کا روپ اختیار کرچکی ہے۔
بھارت میں ہندو انتہا پسند  فلم کی ریلیز روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں‘ اوراپنی اس کوشش میں کافی کامیاب بھی نظرآرہے‘ ہیں‘ جب کہ بالی ووڈ انڈسٹری فلم کے ساتھ کھڑی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں  تین رکنی بینچ نے فلم کو بیرون ملک ریلیز ہونے سے روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی جس کے دوران عدالت نے کہا کہ وزرا اورذمہ دار عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد فلم کے خلاف تبصرے کیوں کررہے‘ ہیں‘ ان کے تبصروں کا اثر سینٹرل بورڈ کے فیصلے پر پڑ سکتا ہے‘ اور یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔
سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ جب تک فلم ’پدماوتی‘کو سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن(سی بی ایف سی) کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں‘ مل جاتا اس وقت تک تمام ذمہ دار افراد  فلم پر کسی بھی طرح کا تبصرہ نہیں‘ کریں گے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے فلم کو بیرون ملک ریلیز روکنے سے متعلق  درخواست بھی مسترد کردی جب کہ  سنجے لیلا بھنسالی نے عدالت کو یقین دہائی کرائی کہ جب تک فلم کو سی بی ایف سی کی جانب سے سرٹیفیکیٹ نہیں‘ مل جاتا وہ کسی بھی ملک میں فلم  ریلیز نہیں‘ کریں گے۔ واضح رہے‘ کہ فلم’پدماوتی‘بھارت سمیت دنیا بھر میں یکم دسمبر کو ریلیز ہونی تھی تاہم انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے کیے جانے والےاحتجاج اور فلم کے ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی اور اداکارہ دپیکا پڈوکون کو ملنے والی خطرناک دھمکیوں کے باعث فلم کی ریلیز ملتوی کردی گئی ہے۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔