سپاٹ فکسنگ کا فیصلہ آنے تک کھیلنے کی اجازت دی جائے: شاہزیب حسن

پاکستان سپر لیگ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث کرکٹر
شاہ زیب حسن نے اپنی معطلی کے فیصلے کے خلاف پاکستان کرکٹ بورڈ سے
اپیل دائر کردی ہے جس پر پی سی بی کے ڈسپلنری ٹریبونل نے بورڈ سے
25 مئی تک جواب دینے کے لیے کہا ہے۔

شاہ زیب حسن جمعہ کے روز پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈسپلنری ٹریبونل کے
سامنے پیش ہوئے جس کے سربراہ جسٹس ( ریٹائرڈ ) اصغرحیدر ہیں۔

محمد عرفان پر ایک سال کی پابندی، دس لاکھ جرمانہ

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق شاہ زیب حسن نے اپنی اپیل میں
استدعا کی ہے کہ جب تک سپاٹ فکسنگ سکینڈل کا فیصلہ نہیں آجاتا
انھیں کھیلنے کی اجازت دی جائے۔

شاہ زیب حسن نے پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کی نمائندگی کی
تھی۔ ان پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن ضابطہ اخلاق کے تحت
مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس بارے
میں مطلع نہ کرنے کا الزام ہے جس کے تحت انھیں ہر طرح کی کرکٹ
سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔

سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں شاہ زیب حسن کے علاوہ خالد لطیف، شرجیل خان
اور ناصر جمشید بھی مبینہ طور پر ملوث ہیں اور انھیں معطلی کا
سامنا ہے۔ ناصر جمشید اس وقت انگلینڈ میں موجود ہیں۔

سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث فاسٹ بولر محمد عرفان کو پہلے ہی چھ
ماہ کی پابندی کی سزا سنائی جاچکی ہے۔