یوسین بولٹ کو اپنے کریئر کی آخری دوڑ میں جھٹکا

یوسین بولٹ نے دوڑ سے پہلے آسمان کی طرف رخ کرکے اپنے انداز میں کچھ کہا

دنیا کے سب سے تیز رفتار ایتھلیٹ یوسین بولٹ کو اپنے الوداعی ریس میں اس وقت جھٹکا لگا جب امریکہ کے جسٹن گیٹلن نے انھیں طلائی تمغے سے محروم کر دیا۔

100 میٹر دوڑ میں عالمی ریکارڈ کے حامل بولٹ کو لندن میں ہونے والے مقابلے میں کانسی کے تمغے پر اکتفا کرنا پڑا۔

٭ بولٹ نے جمیکا میں اپنی آخری 100میٹر ریس جیت لی

٭ یوسین بولٹ چھٹی بار سال کے بہترین ایتھیلٹ منتخب

فائنل کی دوڑ کے بعد بولٹ نے کہا: میری شروعات نے مجھے مشکل میں ڈال دیا۔ گیٹلن اچھے حریفمیں آج اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ ن کر سکا۔

یوسین بولٹ اپنی بہترین فٹنس اور فارم میں نتاہم ان سے یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ اپنی آخری دوڑ میں جیت کر کریئر کا 20 واں طلائی تمغہ حاصل کرلیں گے۔

35 سالہ گیٹلن نے 9.92 سیکنڈ میں ریس مکمل کی جبکہ جمیکا کے يوسین بولٹ نے 9.95 سیکنڈ کا وقت لیا۔ یوسین بولٹ نے اپنے امریکی حریف گیٹلن کو گلے لگایا اور کہا کہ وہ سخت حریف

امریکہ کے کرسٹن کولمین نے 9.94 سیکنڈ کے ساتھ چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔

بولٹ نے سنہ 2015 میں بیجنگ میں منعقدہ اولمپکس میں گیٹلن کو شکست دی تھی لیکن لندن میں وہ اپنی سنہ 2012 کی کارکردگی کو دہرا ن سکے۔

ریس مکمل کرنے کے بعد بولٹ نے گیٹلن کو مبارک باد دی اور ان گلے لگایا۔