پاور سٹیشن جہاں خواتین کی حکمرانی ہے

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ کے اہم علاقوں کے صارفین کو کربگہیا گرِڈ سے بجلی فراہم کی جاتی ۔ گذشتہ ایک ماہ سے اس گرڈ کی ذمہ داری مکمل طور پر خواتین کے ہاتھوں میں ۔ کربگہیا گرڈ کی جگہ پہلے تھرمل پاور پلانٹ ہوتا تھا۔ سنہ 1970 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں یہاں پانچ میگاواٹ بحلی پیدا کی جاتی تھی۔ آج دو خواتین انجینیئرز اور نو خواتین آپریٹرز یہاں تعینات ۔ خواتین کی یہ ٹیم اس گرڈ کو سنبھال رہیاور یہاں کی سکیورٹی کی ذمہ داری بھی خواتین اہلکاروں پر ۔ خوشی اور ذمہ داری کا احساس الکا رانی گرڈ میں جونیئر الیکٹریکل انجینیئر ۔ انھوں نے ’بی ٹیک‘ کی تعلیم حاصل کی ۔ وہ کہتی : ‘مجھے فون پر جب یہ خبر ملی تو خوشی کے ساتھ ذمہ داری کا بھی احساس ہوا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کی اس کوشش کو اپنے انجام تک پہنچانا ۔’ معاون آپریٹر سنگیتا کماری کے ذہن میں اس ٹیم میں منتخب ہونے پر جو خیال آیا اس کے بارے میں انھوں نے کہا: ‘ہم لوگوں پر بھروسہ کیا جا رہا ۔ صرف خواتین کا گروپ ہو گا۔ یہ بات بہت دلچسپ تھی۔ ہمیں کام شروع کیے ابھی صرف نو ماہ ہی ہوئے ۔ یہ بڑی ذمہ داری اگرچہ یہ خواتین پہلے سے ہی ایسی ہی ذمہ داریاں نبھا رہی تھیں لیکن صرف خواتین کی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا یہ ان کا پہلا تجربہ ۔ الکا نے کہا: ‘اب ہمیں ثابت کرناکہ خواتین میں بھی اتنی ہی طاقت ہوتی ۔ ہم بغیر کسی رکاوٹ کے بجلی کا نظام سنبھال سکتے ۔‘ خواتین کی یہ ٹیم ایک مہینے سے زیادہ عرصے سے گرڈ کی ذمہ داریاں سنبھال رہی ۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نیتیش کمار نے 13 اگست کو ٹیم کو اعزاز سے نوازا تھا۔ ٹیم کے اراکین کا کہناکہ ایوارڈ ملنے کے بعد سبھی کو اچھا احساس ہوا۔ پرینکا کماری گرڈ میں اسسٹنٹ آپریٹر کے طور پر کام کرتی ۔ انھوں نے کہا: ‘اعزاز ملنے کے بعد ہم پر ایک قسم کا جنون سوار ہوگیا کہ ہم ثابت کریں کہ لڑکیاں ہر طرح کا کام کر سکتی ۔’ الکا کہتیکہ ‘سب سے مشکل چیز گھر چلانا ۔ خواتین جب وہ کام بخوبی کر سکتیتو وہ کوئی بھی کام کر سکتی ۔ آج خواتین مردوں سے کسی معاملے میں پیچھے ن ۔’ سنگیتا اس بارے میں کہتی : ‘کہنے کے لیے بڑی بڑی باتیں ہو سکتی ، لیکن ہم اپنے کام سے خود کو ثابت کریں گے۔’ توانائی کے شعبے کے ترجمان ہرے رام پانڈے کا کہناکہ پوری طرح سے خواتین کی نگرانی میں چلنے والا شاید یہ ملک میں پہلا پاور گرڈ ۔ وہ کہتےکہ ‘محکمہ ہر قسم کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے خواتین کو تربیت فراہم کر رہا ۔ اس کے پس پشت مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور انھیں آگے لے جانا ۔ انھیں اپنی صلاحیت اور ہنر کو دکھانے کا پورا موقع ملنا چاہیے۔’

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply