خطے اور ملک کی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے اتحادیوں کو اسلحہ برآمد کریں گے: ایران

ایران کے وزیر دفاع جنرل عامر ہتمی کا کہناکہ ملک کے میزائل پروگرام اور اتحادیوں کو مستحکم کرنے کے لیے ان کو اسلحے کی برآمد ایران کی اولین ترجیح ۔ ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق حال ہی میں تعینات ہونے والے وزیر دفاع نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ‘جنگی اعتبار سے خصوصاً میزائل کے حوالے سے ہمارے پاس ایک خاص منصوبہجس کے ذریعے ایران کی میزائل کی طاقت کو بڑھانا ۔ اور جلد ہی ایران کی بیلسٹک اور کروز میزائل کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔’ ایران کو اس کی سرحدوں کے اندر محدود کرنا ہو گا: سعودی فوج تاہم ایران کی نیوز ایجنسی نے یہ ن بتایا کہ وہ کہاں اور کس موقعے پر تقریر کر ر ۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا کہجنرل عامر کی تعیناتی سے یہ بات واضح ہو گئیکہ ایران اپنی فوج کے دو حصوں کو ملا رہایعنی ریگولر آرمی اور پاسداران انقلاب۔ اور ایران ایسا عراق اور شام میں اپنے کردار کے حوالے سے ایسا کر رہا ۔ تجزیہ کاروں کا کہناکہ 1979 کے کے انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع کہ وزیر دفاع پاسداران انقلاب سے ن بلکہ ریگولر آرمی سے تعینات ہوا ۔ جنرل عامر نے مزید کہا کہ ایران اسلحے کو برآمد کرنے پر غور کرے گا تاکہ ‘جنگ اور مسلح تصادم کو روکا جاسکے’۔ انھوں نے کہا ‘جب بھی کوئی ملک کمزور ہوتاتو دوسروں کو موقع ملتاکہ اس پر حملہ آور ہوں۔ جہاں بھی ضرورت ہوئی ہم اسلحہ برآمد کریں گے تاکہ خطے اور ملک کی سکیورٹی کو بہتر بنایا جا سکے اور جنگ کو روکا جا سکے۔’ دوسری جانب ایران کے ملٹری چیف آف سٹاف جنرل محمد باقری نے کہا کہ دشمن ایران پر زمینی حملہ ن کرے گا اور یہ مغرب کے وہ رہنما بھی جانتےجو دانشمند ن کہ زمینی حملہ ان کو بڑا مہنگا پڑے گا۔ یاد ر کہ فروری میں ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل کے حملے کے بعد وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کو ‘نوٹس پر رکھ رہا’ ۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جنرل باقری نے کہا ‘اگر دشمن حملہ کرتا بھیتو وہ زمینی کارروائی ن کرے گا کیونکہ اس کو معلومکہ اس کا سامنا بہادر فوجیوں سے ہو گا۔’ ‘شکرکہ مغرب کے غیر دانشمند رہنماؤں بھی اس نتیجے پر پہنچ سکتےکہ ایران پر حملہ کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی۔ اگرچہ ان کو جارحیت کے آغاز پر کنٹرول حاصل ہو گا لیکن وہ یہ ن کہہ سکتے کہ کب اس تصادم کا اختتام ہو گا اور وہ اس تصادم کو ایران کی سرحد تک محدود ن رکھ سکیں گے۔’

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply