پانی کہیں جسے

[email protected]

لاہور میں دو جولائی رات کو شروع ہونے والی شدید اور طوفانی
بارشوں سے قبل وطن عزیز میں پانی کا ذکر عام طور پر بعض شہروں میں
اس کی کمی اور کالا باغ ڈیم سمیت مختلف چھوٹے بڑے ڈیموں کے حوالے
سے ہو رہا تھا لیکن اب صبح سے شام تک ٹی وی چینلز اور سڑکوں پر اس
کی روانی اور فراوانی دیکھ کر وہ سب باتیں کسی اور زمانے کی محسوس
ہونے لگی ہیں حالانکہ اس دوران میں عملی طور پر بمشکل24گھنٹے ہی
گزر پائے ہیں۔


برصغیر کے بہت سے علاقوں میں مون سون کی ان بارشوں کا سلسلہ یوں
تو تاریخی اور جغرافیائی دونوں حوالوں سے بہت پرانا ہے مگر اب سے
دو تین دہائیاں قبل تک انھیں صرف ایک موسمی عمل سمجھا جاتا تھا
اور سڑکوں پر کھڑے ہونے یا بعض صورتوں میں اس کے گھروں میں گھس
آنے کو بھی معمول کی بات سمجھا جاتا تھا کہ ان دنوں اس کے سیاسی
اور میڈیائی اثرات کو الگ سے دیکھنے یا ان سے خبریں کشید کرنے اور
حاکمان وقت کو برا بھلا کہنے کا رواج عام نہیں ہوا تھا۔


میاں شہباز شریف نے اپنے کراچی کے انتخابی جلسے میں پان اور
کرانچی کا ذکر اپنی طرف سے لطیف انداز میں اور کراچی کو لاہور کی
طرح پیرس بنانے کا دعویٰ اپنے ’’کارکردگی‘‘ والے نعرے کے حوالے سے
کیا تھا مگر یہ تینوں باتیں غیرمتوقع ردعمل اور طوفانی بارش کے
باعث خواہ مخواہ ان کے گلے پڑ گئی ہیں کہ بجلی کی فراہمی بار بار
منقطع ہونے کی وجہ سے لوگ نہ گھر میں بیٹھ سکتے ہیں اور نہ ہی
باہر نکل سکتے ہیں۔


یقیناً ایسی تیز اور طوفانی بارش پیرس میں بھی مسائل پیدا کرتی ہو
گی مگر ترقی یافتہ شہروں کے نکاسی آب کے سسٹم نہ تو سڑکوں پر
زیادہ دیر تک اور اتنا زیادہ پانی جمع ہونے دیتے ہیں اور نہ ہی ہر
آندھی کے ساتھ ان کے فیڈر اس تیزی اور کثرت سے کام کرنا چھوڑ
دیتے ہیں اور نہ ہی گرمی اندھیرے اور نہر نما سڑکوں کے باعث ان کی
آبادیاں آفت زدہ علاقوں کی شکل اختیار کر جاتی ہیں۔ یہ بھی
تسلیم کہ اس ساری خرابی کی ذمے دار صرف گزشتہ حکومت نہیں تھی کہ
ہر دوسرے تیسرے برس مون سون کے سیزن میں کبھی کبھار اس طرح کی
صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔


فرق بس اتنا ہے کہ اس سے پہلے کی حکومتیں آئیں بائیں شائیں کرکے
ٹائم پاس کر لیتی تھیں اور حالات بہتر ہوتے ہی لوگ اپنے کاموں میں
لگ جاتے تھے اور میڈیا بھی کسی نئے موضوع کی تلاش میں لگ جاتا
تھا۔ اس بار ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ نہ صرف یہ زمانہ انتخابات
کی گہما گہمی کا ہے بلکہ میاں شہباز شریف نے اپنی حکومت کی پانچ
سالہ کارکردگی کو ہی اپنا انتخابی نعرہ قرار دے رکھا ہے۔ ایسے میں
لاہور اور پیرس کا یہ تقابل ان کے سیاسی حریفوں اور میڈیا کے
بریکنگ نیوز کے متلاشی صحافیوں کے لیے تنقید اور جگتوں کا ایک
ایسا ’’موقع‘‘ بن گیا ہے جس سے ہر کوئی حسب توفیق بھرپور فائدہ
اٹھانا چاہتا ہے۔


یوں لگتا ہے جیسے عدلیہ اور نیب کے بعد اب متذکرہ نام نہاد
اسٹیبلشمنٹ نے موسم کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ میری ذاتی رائے
میں یہ ایک قومی سطح کا لمحہ فکریہ ہے سو نہ تو اسے سیاسی پوائنٹ
اسکورنگ اور میڈیا ریٹنگ کا رزق بنانا چاہیے اور نہ ہی عوام کو اس
پریشان کن صورت حال میں چھوڑ کر ان حقائق کی طرف سے آنکھیں بند
کرنی چاہئیں جو اس کے اصل ذمے دار ہیں اور جن کا تعلق ہر سیاسی
جماعت‘ میڈیا اور عوام کی اولین ترجیحات سے ہونا چاہیے کہ یہ ہم
سب کا مشترکہ مسئلہ ہے بالکل اسی طرح جیسے پانی کو ذخیرہ کرنے‘
سمندر میں ضایع ہونے سے بچانے اور اس سے توانائی کے ذرایع پیدا
کرنا ہم سب کا مشترکہ اور قومی مسئلہ ہے۔


کیسی عجیب بات ہے کہ ایک طرف ہمارے شہروں، فصلوں اور بجلی کی
ضروریات پورا کرنے کے ضمن میں ایک آبی بحران تیزی سے ہماری طرف
بڑھتا چلا آ رہا ہے اور دوسری طرف ایک دو غیر معمولی بارشوں کی
وجہ سے نہ صرف ہمارا نظام زندگی درہم برہم ہو جاتا ہے بلکہ یہی
پانی سیلاب کی صورت کھڑی فصلوں اور کچے گھروں کو روندتا ہوا ہر
طرف بربادی پھیلا دیتا ہے اور ہم سب مل کر سوائے افسوس اور ماتم
کے کچھ نہیں کر پاتے۔


چلیے مان لیا کہ لاہور پیرس کے بجائے وینس بن گیا ہے اور اسی طرح
کراچی کو لاہور یعنی پیرس جیسا بنانے کا دعویٰ بھی حقیقت سے زیادہ
ایک  wishful thinking تھا مگر ہم لاہور کو بہتر لاہور‘
کراچی کو بہتر کراچی اور اسی طرح پاکستان کے سارے شہروں کو صحیح‘
کارآمد اور موثر نظام کے ذریعے ترقی دے کر اس قابل تو بنا سکتے
ہیں کہ وہ اس طرح کی غیرمعمولی بارشوں کا ایسے انداز میں مقابلہ
کر سکیں کہ عوام ان سے کم سے کم متاثر ہوں، پانی سڑکوں پر کھڑا
ہونے کے بجائے نہ صرف جلدی نکل جائے بلکہ اسے آیندہ استعمال کے
لیے محفوظ بھی کیا جا سکے اور یہ کہ بجلی کے فیڈر آندھی کی آہٹ
سنتے ہی ٹرپ ہوتا چھوڑ دیں۔


ہمارے ندی نالے نہریں اور دریا سوکھتے چلے جا رہے ہیں اور
خدانخواستہ وہ وقت دور نہیں (اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی
تو) جب انسان جانور اور فصلیں سب کے سب پانی کو ترسیں گے بارش کا
یہ پانی دو ایک روز میں اتر جائے گا اور شاید بجلی کی فراہمی بھی
بہتر اور مسلسل ہو جائے گی مگر اپنے حصے کے دریائی پانی کی حفاظت
اور اس کی اسٹوریج کے لیے اگر فوری قدم نہ اٹھایا گیا تو ہمارا
مستقبل ہمارے تصور سے بھی زیادہ تاریک ہو جائے گا۔


یہ کام حکومتوں کے کرنے کا سہی مگر ہم سب اگر پانی کے استعمال میں
کفایت اور درختوں کو لگانے اور ان کی افزائش میں اپنا حصہ ڈالنے
کا رویہ اپنا لیں تو بھی یہ بوجھ بہت حد تک کم ہو سکتا ہے اور ووٹ
دیتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھیے کہ جس کسی کو بھی آپ کا حق
دار سمجھیں تو تعلیم اور صحت کے ساتھ ساتھ پانی کا مسئلہ بھی اس
کی اولین ترجیحات میں سے ہو کہ اگر یہ معاملہ ان آیندہ کے پانچ
برسوں میں حل نہ کیا گیا تو پھر بہت دیر ہو جائے گی۔