فکر اور پریشانی سے نجات پانے کے تین آسان طریقے

لندن: ماہرِ نفسیات کے مطابق پریشان اور فکرمندی کی سوچ کو تین آسان طریقوں سے دور کیا جا سکتا ۔ پروفیسر ہانس نورڈال کے مطابق منفی سوچ کو وقت کا زیاں جان کر، حال پر توجہ دیتے ہوئے اور سوچ کو منتشر ہونے سے بچا کر آپ پریشان کن خیالات کو ذہن سے جھٹک سکتےاور یوں ایک پرسکون زندگی گزار سکتے ۔ ناروے کی جامعہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی میں رویہ جاتی ادویہ (بیہوریئل میڈیسن) کی ماہر پروفیسر ہانس کہتیکہ ہم اداسی، پریشان خیالی اور فکرمندی کو مسائل کے حل کی ایک راہ سمجھتے ہوئے بار بار ذہن میں لاتےلیکن اصل میں ہم خود پر تنقید کر کے منفی خیالات سے خود کو ہلکان کر ر ہوتے ۔ ان کا کہناکہ یہ اسی طرحکہ کسی کے ہاتھ میں تھوڑی دیر تک گلاس ہو تو ٹھیک لیکن مسلسل دو گھنٹے تک گلاس تھامنا ہو تو یہ بہت بھاری اور تکلیف دہ ہو جاتااور اداسی اور پریشان کن خیالات بھی ایسے ہی ہوتےجو طویل وقت کے لیے مسلسل ذہن میں ڈیرہ جما کر بھاری بھر کم ہو جاتے ۔ اس فکرمندی اور اداس خیالات سے جان خلاصی کے تین طریقے یہ : اسے وقت کا زیاں سمجھئے اداس کرنے والےاور پریشان کن خیالات کو سب سے پہلے وقت اور توانائی ضائع کرنا والا سمجھئے۔ پریشان کن خیالات سے جان چھڑانا اتنا مشکل ن جتنا نظر آتالیکن اس سے قبل بعض باتوں کو سمجھنا ضروری ہو گا۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھئے کہ پریشانی اور اداس خیالی ایک طرح سے وقت اور توانائی ضائع کرنے والی وبا ۔ اس سے کوئی فائدہ ن ہوتا اور نہ ہی فکر سے مسائل حل ہوتے ۔ لوگوں کی اکثریت ان منفی خیالات کو مسائل کے حل کی جانب ایک کوشش سمجھتیلیکن وہ غلطی پر ۔ بار بار منفی اور پریشان کن باتیں سوچنے سے آپ کا پورا مزاج منفی ہو جاتا ۔ اب جب بھی ایسے خیالات ذہن میں آئیں تو خود سے ایک سوال کیجئے کہ آخر اس سب کا فائدہ کیا ؟ ابھی اور اس جگہ پر توجہ رکھیں پریشانی اور فکر کو چھوڑ کر اسی لمحے اور اسی جگہ پر توجہ دیجئے۔ پروفیسر ہانس کے مطابق مایوس کن فکروں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان واقعات پر غور کیجئے جو آپ کے اردگرد نمودار ہو ر ۔ جیسے ہی آپ حال میں جینے لگتےاور موجودہ واقعات کے لحاظ سے زندگی گزارتےآپ کی فکر مندی ازخود غائب ہو جاتی ۔ تاہم منفی خیالات بار بار حملہ کر سکتےلیکن ان و چھوڑ دیں اور ہر لمحہ جینے کی کوشش کیجئے۔ خیالات کے انتشار سے بچیے ان چیزوں سے بچیں جو آپ کے ذہن کو سکون میں ن آنے دیتیں اور اسے بھٹکاتی رہتی ۔ پروفیسر ہانس کے مطابق کئی لوگ فکر سے بچنے کے لیے ٹی وی، گیمز اور منشیات کا سہارا لیتے ۔ نفسیات کی زبان میں یہ بھٹکانے والی عارضی چیزیںاور ان کے سہارے دماغ کو طویل عرصے تک پرسکون ن رکھا جا سکتا۔ یہ بالکل اسی طرحجیسے کہ ہم اپنی حاجت اور خوشیوں کے لیے دوسرے لوگوں پر بھروسہ رکھیں۔ اس کے بجائے آپ مسلسل مشق کر کے منفی سوچوں کو کمزور سے کمزور کرتے جائیں اور حال میں مصروف رہ کر پریشان خیالی سے چھٹکارے کی کوشش کیجئے۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply