رگوں میں کیلشیم، کولیسٹرول سے بھی زیادہ خطرناک ہے، تحقیق

ٹیکساس: ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہواکہ اگر انسانی رگوں میں کیلشیم جمع ہوجائے تو وہ ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتااور اس کے نتیجے میں دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ۔ اب تک ہم یہ تو جانتےکہ بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) اور کولیسٹرول کی زیادتی سے دل کے دورے کا خطرہ بھی بڑھ جاتالیکن اس تحقیق میں کیلشیم کو ان دونوں عوامل سے ک زیادہ سنگین قرار دیا گیا ۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس، ڈلاس میں 45 سے 84 سال کے 6,200 افراد پر کیےاس مطالعے میں بطورِ خاص یہ جائزہ لیا گیا کہ رگوں کی اندرونی سطح پر جمع ہوجانے والی کیلشیم، انسانی صحت پر کس طرح کے اور کیسے اثرات مرتب کرتی ۔ اس سے پہلے یہ بات سامنے آچکی تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کیلشیم کی معمولی مقداریں بھی رگوں کی اندرونی دیواروں پر تہہ در تہہ جمع ہوتی رہتیاور یہ کہ اگر صحت مند طرزِ حیات اختیار نہ کیا جائے تو رگوں کے اندر جمع ہوجانے والی کیلشیم ان میں سختی کی ایک وجہ بھی بن سکتیاور یہی سختی آگے چل کر فالج اور دل کے دورے کی وجہ بھی بنتی ۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان تمام رضاکاروں کے دس سالہ طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ جن افراد کی رگوں میں کیلشیم کی پرتیں موجود ن تھیں ان میں فالج یا دل کے دورے کا خطرہ بھی 3 فیصد کم تھا۔ بظاہر یہ شرح بہت کم معلوم ہوتیلیکن پھر بھی بہت اہمکیونکہ اس سے ظاہر ہوتاکہ جن لوگوں کی رگوں میں بہت کم کیلشیم جمع ہوتییا پھر بالکل بھی جمع ن ہوتی، ان کولیسٹرول کم کرنے والی دوائیں لینے کی بھی کوئی ضرورت ن ہوتی۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا کہ رگوں میں کیلشیم کی غیر موجودگی کے خوشگوار اثرات ایسے افراد میں بھی نمایاںجن ذیابیطس تھی یا پھر ہائی بلڈ پریشر اور مضرِ صحت کولیسٹرول (ایل ڈی ایل) کی زیادتی کا شکار ۔ اس تحقیق کی روشنی میں ماہرین کا مشورہکہ وہ فالج یا امراضِ قلب کے مریضوں میں جہاں دوسرے پہلوؤں کا جائزہ لیتے ، و ایک اضافی ’’سی ٹی اسکین‘‘ کے ذریعے یہ بھی معلوم کرلیں کہ متعلقہ مریض کی رگوں میں کیلشیم کی مقدار کمیا زیادہ؛ تاکہ بہتر مشورہ دے سکیں اور موزوں ترین دوا بھی تجویز کرسکیں۔ اس دریافت کے باوجود ماہرین نے خبردار کیاکہ رگوں میں کیلشیم جمع نہ ہونے کو صحت مندی کی واحد دلیل نہ سمجھ لیا جائے کیونکہ دل کی بیماریوں اور فالج وغیرہ میں اس کے علاوہ بھی کئی عوامل کا کردار ہوتاجن کسی صورت نظر انداز ن کیا جاسکتا۔ اس تحقیق کی تفصیلات ’’جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی: کارڈیو ویسکیولر امیجنگ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply