صحت کے معاملے میں خواتین کی 10 سنگین غلطیاں

کراچی: اچھی صحت اور خوبصورت نظر آنے کے لیے خواتین دنیا بھر کے جتن کرتی لیکن اکثر کو شکایت رہتیکہ ان کوئی فائدہ ن ہوتا۔ اگر آپ کو بھی یہی شکایتتو جائزہ لیجئے کہ ک آپ بھی یہ غلطیاں کرکے اپنی صحت اور خوبصورتی کو داؤ پر ن لگار۔ 1۔ کم پانی پینا مناسب مقدار میں پانی پینا ہم سب کی صحت کے لیے مفید اور ضروری ۔ ماہرینِ صحت کا کہناکہ ہمیں روزانہ کم از کم 8 گلاس (2 لیٹر) پانی پینا چاہیے تاکہ جسم میں پانی کی صحیح مقدار موجود ر لیکن اکثر خواتین اس سادہ سے مشورے کو نظرانداز کردیتی اور اس وقت بھی پانی ن پیتیں کہ جب ان پیاس لگ رہی ہوتی ۔ ضرورت سے کم پانی پینے کے نتیجے میں آپ کو نہ صرف ڈی ہائیڈریشن (جسم میں پانی کی کمی) کی شکایت ہوسکتیبلکہ اس سے جلدی تھکن، چڑچڑا پن اور قبض جیسے مسائل کا سامنا بھی ہوسکتا ۔ 2۔ کھانا چھوڑ دینا بہت سی خواتین ’’ڈائٹنگ‘‘ کے نام پر ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیتی لیکن اس سے ان کی صحت کو فائدے کے بجائے نقصان ہی پہنچتا ۔ وجہ یہکہ جب آپ ایک وقت کھانا ن کھاتیں تو لمبے وقفے کے نتیجے میں آپ کو شدید بھوک لگتیاور آپ ایک ہی وقت میں معمول سے زیادہ کھاتیجو وزن میں اضافے کا باعث بنتا ۔ اس لیے بہترکہ وقت پر کھانا کھائیے لیکن مناسب مقدار میں۔ کیونکہ اس طرح آپ کی بھوک قابو میں رہنے کے علاوہ صحت بھی اچھی ر گی۔ 3۔ متوازن غذا نہ کھانا وقت پر اور صحیح مقدار میں کھانا کھانے والی خواتین بھی اکثر صحت کے مسائل کی شکایت کرتیلیکن اس کا تعلق کھانے کی مقدار اور وقت سے ن بلکہ کھانے کے معیار سے ۔ ضروریکہ آپ کی غذا متوازن بھی ہو یعنی اس میں دالیں، سبزیاں، پھل، خشک میوہ جات اور فائبر سے بھرپور اناج (خاص کر بھوسی یعنی bran کی مناسب مقدار والا آٹا) بھی شامل ہو۔ متوازن غذا کی بدولت آپ کے جسم میں زیادہ چربی جمع ن ہونے پاتی جب کہ ہاضمہ بھی درست رہتااور آپ سارا دن خود کو چاق و چوبند محسوس کرتی ۔ 4۔ ناکافی پروٹین متوازن غذا کے اہم اجزاء میں ’’پروٹین‘‘ (لحمیات) بھی شاملجو خواتین و حضرات دونوں کے لیے ضروری ۔ لیکن بیشتر خواتین اس کا خیال ن رکھتیں اور ضرورت سے کم مقدار میں پروٹین استعمال کرتی ۔ پروٹین سے بھرپور غذاؤں میں انڈا، مچھلی، مرغی، دہی اور دودھ بطورِ خاص قابلِ ذکر ۔ اگر روزانہ ممکن نہ بھی ہو تو ہفتے میں 2 سے 3 مرتبہ ان پر مشتمل کھانے پکائے جاسکتےاور جسم میں پروٹین کی مقدار پوری رکھی جاسکتی ۔ واضح ر کہ پروٹین سے نہ صرف جسم چست (اسمارٹ) رہتابلکہ یہ خون میں شکر کی مقدار (شوگر لیول) بھی کنٹرول میں رکھتا ۔ 5۔ کاربوہائیڈریٹس کی نامناسب مقدار پروٹین کی طرح کاربوہائیڈریٹس بھی ہماری روزمرہ غذا کے لازمی اجزاء میں شمار کیے جاتےلیکن بہت سی خواتین اس طرف توجہ ن دیتیں۔ کیلا، آلو، چقندر، نارنگی (اورنج)، گریپ فروٹ، سیب، لوبیہ، مختلف سبزیوں اور اناج میں کاربوہائیڈریٹس کی وافر مقدار ہوتیجن اپنے روزمرہ غذائی معمولات کا حصہ بنایا جاسکتا ۔ البتہ کاربوہائیڈریٹس کے استعمال میں حد سے تجاوز بھی ن کرنا چاہیے جب کہ ان کی کم مقدار لینے سے چڑچڑے پن، تھکن، متلی، قبض، دردِ سر اور ضرورت سے زیادہ کھانے (اوور اِیٹنگ) جیسے مسائل جنم لے سکتے ۔ 6۔ چکنائی سے مکمل پرہیز یہ مانا کہ زیادہ تیل اور گھی والی (یعنی مرغن) غذاؤں میں چکنائی کی وافر مقدار ہوتیجو آپ کے جسم میں کولیسٹرول بڑھا سکتی لیکن یہ ن بھولنا چاہئے کہ چکنائی بھی ہمارے جسم کی اہم ضروریات میں شامل ۔ اس لیے روزمرہ غذا میں چکنائی کی مقدار کم ضرور رکھئے لیکن اسے بالکل ختم نہ کیجئے۔ 7۔ بے وقت کھانا غذا کتنی ہی متوازن اور غذائی اجزاء سے بھرپور کیوں نہ ہو، لیکن اگر بے وقت کھائی جائے تو فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ۔ مشرقی گھرانوں میں دیکھا گیاکہ خاتونِ خانہ پہلے سارے گھر والوں کو کھانا کھلاتیاور پھر برتن دھونے کے بعد خود کھانا کھاتی ۔ یہ ان کی صحت کے لیے بری خبر ۔ ان چاہیے کہ صبح کے ناشتے سے لے کر رات کا کھانا تک صحیح وقت پر کھائیں۔ یاد ر کہ ناشتے کا صحیح وقت علی الصبح یعنی طلوعِ آفتاب کے فوراً بعد، دوپہر کا کھانا دن کے 12 بجے سے 2 بجے کے درمیان کھا لینا چاہیے جب کہ رات کے کھانے کا موزوں ترین وقت سورج چھپنے سے پہلے تک کا ۔ بے وقت کھانے کا نتیجہ بدہضمی، موٹاپے اور صحت کے دوسرے کئی مسائل کی صورت میں ظاہر ہوسکتا ۔ 8۔ حد سے زیادہ ورزش اگرچہ متوسط طبقے کی خواتین سارے دن گھر کے کام کاج ہی میں اتنی جسمانی مشقت کرلیتیکہ ان کسی ورزش کی ضرورت ن رہتی لیکن ایک آرام دہ اور پرآسائش زندگی گزارنے والی عورتیں خود کو ’’فٹ‘‘ رکھنے کے لیے طرح طرح کی ورزشیں کرتی ۔ لیکن ان یہ جاننا چاہیے کہ جسمانی برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ۔ خواتین کو اسمارٹ اور چاق و چوبند رکھنے کے لیے پورے دن میں زیادہ سے زیادہ 60 منٹ تک کی ورزش کرنی چاہیے۔ 9۔ ورزش سے گریز اسی تصویر کا دوسرا رخ اُن خواتین کی شکل میںجو بے حد آرام پسند ہوتیاور نہ تو وہ گھریلو کام کاج کرتیاور نہ ہی ورزش میں ان دلچسپی ہوتی ۔ ایسی خواتین کو یاد رہنا چاہیے کہ صرف صحت بخش اور متوازن غذا ان تندرست ن رکھ سکتی۔ ورزش نہ کرکے وہ اعصابی تناؤ، ڈپریشن، ہائی بلڈ پریشر، ناقص ہاضمے، موٹاپے اور درجنوں اقسام کے سنگین امراض کو دعوت دے رہی ہوتی ۔ 10۔ نیند کی کمی روزانہ سات گھنٹے کی نیند صحت کےلیے بہت ضروریلیکن اکثر خواتین اس سے کم وقت تک ہی سو پاتیجس کی عمومی وجہ گھریلو ذمہ داریاں ہوتی ۔ نیند کی کمی ان متعدد امراض میں مبتلا کرسکتی ۔ لہذا خواتین کو اپنی روزانہ کی نیند پوری کرنی چاہئے اور اگر رات کے وقت پوری نیند ممکن نہ ہوسکے تو وہ دن کے وقت چند گھنٹوں کی نیند لے کر رات کی کسر پوری کرسکتی ۔ تاہم اس کےلیے ان اپنے اہلِ خانہ کا تعاون درکار ہوگا۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply