کم کاربوہائیڈریٹ والی ’کیٹوجینک ڈائٹ‘ سے بہتر یادداشت اور لمبی زندگی

kito jink diet

واشنگٹن: دو نئی تحقیقات سے معلوم ہواکہ کیٹوجینک غذاؤں سے جہاں بہت سے دیگر فوائد حاصل ہوتے و حافظہ بہت اچھا ہوتااور یہ طویل زندگی میں بھی اپنا اہم کردار ادا کرتی ۔

کیٹوجینک غذائیں مصنوعی رنگوں اور ملاوٹ سے پاک قدرتی غذاؤں کو کہا جاتاجن میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار بہت کم ہوتیجبکہ چکنائی زیادہ اور پروٹین بھی خاصی مقدار میں موجود ہوتے ۔ حال ہی میں چوہوں پر دو تجربات کئے جن میں کیٹو غذاؤں کی اہمیت مزید سامنے آئی ۔

اس سے قبل کینسر کے خاتمے، توجہ کے ارتکاز، وزن میں کمی، مرگی کے علاج اور دیگر کئی امراض میں کیٹو طریقہ علاج بالغذا کی افادیت ثابت ہوچکی ۔ لیکن اب امریکی شہر نوواٹو میں بک انسٹی ٹیوٹ آف ایجنگ کے ایرک ورڈِن اور جان نیومن نے چوہوں کی عمررسیدگی پر کیٹو کے تجربات کئےجبکہ دوسرا مطالعہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں ڈیوس اسکول آف ویٹرنری میڈیسن نے جان رامسے نے کیا ۔ انہوں نےبھی چوہوں کی یادداشت اور توجہ پر کیٹو غذاؤں کے اثرات پر تحقیق کی ۔ یہ تحقیق ’’سیل میٹابولزم‘‘ نامی مجلے میں شائع ہوئی ۔

بک انسٹی ٹیوٹ کے مطابق کیٹو کے اثرات عین روزے یا فاقے کی طرح اور اس کے علاوہ یہ دل کی افعال کو درست رکھنے، گلوکوز کو اعتدال پر رکھنےاور دماغی صحت پر اچھے اثرات میں بھی نمایاں رہی۔ ماہرین کے مطابق کیٹوغذائیں جسم میں بی ٹا ہائیڈروکسی بیوٹریٹ (بی ایچ بی) کی مقدار بڑھاتیجس سے دماغ سرگرمی، یادداشت اور کام کرنے کی صلاحیت بڑھتی ۔ دلچسپ بات یہکہ بی ایچ بی بڑھاپے کو دور رکھتیاور اہم اعضا اور ٹشو کو بھی درست حالت میں رکھتی ۔

دوسری ٹیم نے بتایا کہ جن چوہوں کو کاربوہائیڈریٹس کی بجائے چکنائیوں (فیٹس) کی بڑی مقدار دی گئی ان کی اوسط عمر 13 فیصد زیادہ نوٹ کی گئی جو انسانوں میں 7 سے 10 سال اضافے کے برابر ۔ اس کے علاوہ یہ چو صحتمند ر اور ان کے اعضا مضبوط اور درست حالت میں دیکھے ۔

کیٹو غذا کی تفصیل

کیٹوجینک غذا میں لحمیات اور پروٹین زیادہ جبکہ کاربوہائیڈریٹس بہت کم کھائے جاتے ۔ ان غذاؤں میں گھاس چرنے والے میویشیوں کا گوشت، گھی، تیل، زیتون کا تیل، چکنائی والی مچھلی، انڈے، مغزیات، پھلیاں، خشک گری دار میوے، ایواکاڈو، زمین سے اوپر اگنے والی سبزیاں اور دیگر اشیا شامل ؛ جبکہ پروسیس شدہ غذاؤں، ڈیری اور بیکری کی مصنوعات سے پرہیز کیا جاتا ۔

اہم بات یہکیٹو غذا کے اثرات بہت دیرپا ہوتےیعنی ایک طویل عرصے تک جسم پر ان کے اچھے اثرات برقرار رہتے ۔