کراس (+) پر نظریں جمائیے اور بھوت دیکھیے

کراچی: نیچے دیم گئی ویڈیو کو کلک کر کے چلائیے اور سیاہ درمیانی حصے میں بنے ہوئے سفید کراس (+) پر نظریں جما دیجیے۔ چند سیکنڈ میں آپ کو ارد گرد کی تصویریں عجیب و غریب اور بھوتوں جیسی محسوس ہونے لگیں گی۔ لیکن جیسے ہی آپ اس کراس پر سے نظر ہٹا کر تصویروں کو دیکھیں گے تو ان میں ایسا کچھ ن ہوگا۔ یہ ایک ایسا تجربہجسے کر کے آپ نہ صرف خود حیران ہو سکتےبلکہ اپنے دوستوں کو بھی حیران کر سکتے ۔ اگر آپ سوچ ر کہ آخر اس کی وجہ کیاتو وہ بھی بتائے دیتے ۔ ویسے تو ہماری آنکھ کو ایک ایسے کیمرے سے تشبیہ دی جا سکتیجو 190 درجے کے زاویئے تک منظر کا احاطہ کرتالیکن ہماری آنکھ میں پردہ چشم کا صرف درمیانی حصہ کسی منظر کو دیکھنے کے معاملے میں سب سے زیادہ حساس ہوتا ۔ یہ درمیانی حصہ جو آنکھ میں روشنی کے داخل ہونے والے مقام کی بالکل سیدھ میں واقع ہوتا ، پردہ چشم (آنکھ کے پردے) کے پورے رقبے کے صرف 10 فیصد پر مشتمل ہوتا ۔ بصریات کی زبان میں اسے ’’پیلا نقطہ‘‘ (یلو اسپاٹ) بھی کہا جاتا ۔ اس کے ارد گرد پردہ چشم پر روشنی کو محسوس کرنے اور عکس تشکیل دینے والے خلیوں کی نسبتاً کم تعداد ہوتی ۔ یہی وجہکہ جب ہم کسی چیز پر نظریں جماتےتو اس سے آنے والی روشنی اسی پیلے نقطے پر مرکوز ہوتیاور یوں ہم اس چیز کو زیادہ واضح طور پر دیکھ سکتے ۔ تاہم ارد گرد کا منظر خاصا دھندلا رہتاجس کا اکثر ہمیں احساس ن ہوتا۔ جب آپ نے اس ویڈیو کے سیاہ حصے میں موجود سفید کراس (+) پر نظریں جمائیں تو اس کے اطراف سیاہی کی وجہ سے یلو اسپاٹ پر عملاً بہت ہی کم روشنی پہنچی جبکہ تصویروں سے آنے والی روشنی یلو اسپاٹ سے باہر واقع (کم حساسیت کے حامل) پردہ چشم کے حصوں تک پہنچ رہی تھی۔ یہی وہ موقعجب عکس بنانے کے معاملے میں ہمارے دماغ کی صلاحیت ہمیں دھوکا دے جاتی ۔ ہوتا یوںکہ یلو اسپاٹ سے آنے والی انتہائی کم روشنی کے باعث دماغ میں عکس سازی والا گوشہ (امیج پروسیسنگ ریجن) اپنے طور پر پورا منظر تشکیل دینے کی کوشش کرتا ۔ لیکن چونکہ یلو اسپاٹ کے ارد گرد پردہ چشم کا حصہ کم حساس ہوتااور عکس سے متعلق اس سے دماغ تک پہنچنے والے سگنل بھی خاصے کمزور ہوتے ، اس لیے دماغ خود ہی اس کمی کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتا ۔ مگر یہ کوشش پوری طرح سے کامیاب ن ہو پاتی جس کے نتیجے میں (کراس پر نظریں مرکوز رکھتے ہوئے) ارد گرد کی تصویریں دھندلی پڑ جاتی ، ان کے خد و خال بگڑ جاتےاور وہ انسانوں کے بجائے بھوتوں جیسی شکلیں محسوس ہونے لگتی ۔ جب ویڈیو میں یہ تصویریں بار بار تبدیل ہوتیتو دماغ اس بدلتے منظر میں اور زیادہ الجھ کر رہ جاتا ۔ یہی وجہکہ آپ اس ویڈیو میں جتنی دیر تک کراس (+) پر نظریں مرکوز رکھیں گے، اس کے اطراف موجود تصویریں آپ کو اتنی ہی زیادہ مسخ شدہ، بد رنگی اور بھیانک محسوس ہوں گی۔ مگر جیسے ہی آپ کسی تصویر کی طرف دیکھیں تو پتا چلے گا کہ وہ تو بالکل صحیح حالت میں ؛ اصل قصور تو اُس کارستانی کاجو آپ کی آنکھوں اور دماغ نے آپس میں مل کر انجام دی تھی۔ کیوں! کیسا لگا نظروں کا یہ دھوکا؟

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔