مسلسل 27 سال سے اپنے گاؤں کے لیے تالاب کھودنے والا باہمت شخص

چھتیس گڑھ: بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ایک گاؤں سجا پہد میں عوام طویل عرصے سے قلتِ آب کا شکارجہاں خود انسانوں اور مویشیوں کے لیے پانی نایاب ۔ اس کمی کو دیکھتے ہوئے یہاں کے ایک نوجوان شیام لال نے بیلچہ اور پھاؤڑا اٹھا لیا اور خود گاؤں کے لیے تالاب بنانا شروع کردیا جس کی توسیع آج بھی جاری ۔ شیام لال نے 15 برس کی عمر سے کام شروع کیا اور قریبی جنگل میں بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے تالاب بنانا شروع کر دیا تاکہ اس میں جمع ہونے والے پانی سے پورے گاؤں کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ جب شیام لال نے دیہاتیوں سے مدد کا ہاتھ بڑھانے کو کہا کہ تو الٹا اس کا مذاق اڑایا گیا لیکن اس نے ہمت ن ہاری اور خود اپنی مدد آپ کے تحت تالاب بنانا شروع کر دیا اور یہ سلسلہ گزشتہ 27 سال سے جاری ۔ اب شیام کی عمر 42 ساللیکن ان کا بنایا ہوا گھڑا اب ایک ایکڑ چوڑا اور 15 فٹ گہرا ہو چکاجس میں گاؤں کے لیے سب سے نایاب شے یعنی قابلِ نوش پانی موجود ۔ شیام لال کا کہناکہ اب ان کا خواب مکمل ہو چکااور پورا گاؤں یہ پانی استعمال کر رہا ۔ شیام کی کہانی اب پورے بھارت میں مقبولاور سجا پہد کے ایک سرکاری نمائندے نے ان 10 ہزار روپے کا انعام بھی دیا ۔ دلچسپ بات یہکہ اب لوگوں کی بڑی تعداد ان کی مدد کے لیے آگے بڑھ رہیلیکن جب شیام تنہا تھا تو کسی نے اس کی مدد ن کی تھی۔ اب پانی کے تالاب سے گاؤں والوں کو بہت سہولت حاصلاور ان پانی کے لیے دربدر پھرنا ن پڑتا۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔