دنیا کا واحد نابینا سرفر، ڈیرک ریبیلو

dirk rabelio

ہوائی، امریکہ: 24 سالہ ڈیرک ریبیلو مکمل طور پر نابینا لیکن وہ دنیا کے خطرناک کام کے ماہریعنی تختے پر سمندر کی اونچی لہروں پرمہارت سے تیرتے ۔ آنکھوں والے حضرات بھی اپنی تمام حسیات پر انحصار کرکے یہ مشکل کام انجام دیتے۔ ڈیرک کے والد ارنسٹو نے اپنے بیٹے کا نام ہوائی کے مشہور سرفر ڈیرک ہو کے نام پر رکھا تھا جو ہوائی سے تعلق رکھنے والے پہلے عالمی چیمپیئن ۔ لیکن بدقسمتی سے ڈیرک پیدائشی طور پر گلاکوما کے شکارلیکن انہوں نے عزم کرلیا کہ وہ اپنے والد کا خواب ضرور پورا کریں گے۔

ڈیرک نے 2 سال کی عمر سے ہی سرفنگ کا چھوٹا تختہ (باڈی بورڈ) سنبھال لیا کیونکہ سرفنگ اس کے لہو میں تھی۔ تاہم اس نے 17 برس کی عمر میں پہلی مرتبہ سرفنگ شروع کی جس کے بنیادی اصول اس کے والد نے اسے سکھائے ۔ اس کے بعد ڈٰیرک نے پرایا ڈو مورو سرف اسکول میں داخلہ لیا جہاں اسے سرفنگ کے بہترین استاد فیبیو مارو نے سرفنگ کے اصول سکھائے۔

اس کے بعد وہ روزانہ صبح آپنے والد کے ساتھ سرفنگ کی پریکٹس کے لیے جاتا رہا۔ دوسری جانب اس کے دوستوں نے اس کی معذوری فراموش کرتے ہوئے اس کی بھرپور مدد کی۔ لیکن چھوٹی لہروں کو جھیلنا ایک الگ کامتاہم اونچی لہروں کو بنا دیکھے ان پر تیرنا کوئی آسان بات ن۔ بہت سے لوگوں نے ڈیرک کو اس سے خبردار بھی کیا لیکن اس نے ہوائی میں ’پائپ لائن سرفنگ‘ شروع کردی۔ پائپ لائن ہوائی کے سمندر میں مرجانی چٹانوں کے ایک سلسلے کے پاس بننے والی اونچی لہروں کی جگہ کو کہتے ۔ یہ اتنی خطرناککہ یہاں کئی ماہر سرفر ہلاک ہوچکےلیکن اب ڈیرک ریبیلو ہر سال سردیوں میں یہاں سرفنگ کرتے ۔

2012 میں ان کی ہمت پر ایک فلمساز برائن جیننگز نے ایک دستاویزی فلم بنائی۔ اس کے بعد ان ایک ادارے کی جانب سے پوری دنیا میں سرفنگ کا موقع بھی ملا۔ لیکن سوال یہکہ ڈیرک یہ کام کس طرح کرتے ؟

ڈیرک پانی کے بہاؤ کو اپنے پیروں سے محسوس کرکے لہروں کا پتا لگاتے ۔ اس کے علاوہ لہروں کے شور سے بھی وہ ان کی سمت اور کیفیت معلوم کرتےجبکہ کئی چیزیں وہ قدرتی طور پر محسوس کرلیتےاور وہ اس صلاحیت کو بیان کرنے سے قاصر ۔ وہ کہتے کہ مجھے خود پر بھروسہاور یہ اعتماد میری کامیابی کی دلیل ۔