فرانسیسی عدالت نے والدین کو اپنی پسند سے بچے کا نام رکھنے سے روک دیا

پیرس: فرانس میں عدالت نے ایک جوڑے کو اپنے بچے کا نام اپنی پسند سے رکھنے سے روک دیا۔ برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق فرانس کے علاقے بریٹینی سے تعلق رکھنے والے جوڑے کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی تو انہوں نے اس کا نام ’’فانچ‘‘ رکھنا چاہا لیکن اسپتال انتظامیہ نے برتھ سرٹیفکیٹ میں یہ نام لکھنے سے انکار کردیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس نام میں جو حروف استعمال ہوتےان میں ایک حرف ñ بھیجسے فرانسیسی زبان کا لفظ ن سمجھا جاتا۔ والدین بضدکہ انہوں نے بچے کا نام fañch ہی رکھنالہٰذا انہوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تاہم عدالت نے بھی ان یہ نام رکھنے سے روک دیا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس نام میں استعمال ہونے والا حرف ñ فرانسیسی قانون سے مطابقت ن رکھتا۔ خیال ر کہ بریٹینی فرانس کے شمال مغرب میں واقعجہاں کی ثقافت اور زبان ملک کے دیگر حصوں سے مختلف ۔ اس جوڑے کا تعلق چونکہ اسی علاقے سےلہٰذا وہ چاہتےکہ ان کے بچے کا نام fañch ہی رکھا جائے۔ ماضی میں بریٹینی میں دو معروف مصنف بھی گزرے جن کے نام Fañch Peru اور Fañch Broudigاور یہ نام بریٹینی میں خاصہ مقبول ۔ بچے کے والد جین کرسٹوف برنارڈ کا کہناکہ وہ ہر صورت میں اپنے بچے کا نام Fañch  ہی رکھیں گے اور قانونی جنگ جاری رکھیں گے۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔