روہنگیا مسلمانوں کی مدد کیلئے امدادی جہاز بحیرہ روم سے خلیج بنگال روانہ

روم: بحیرہ روم میں لاکھوں مہاجرین کو ڈوبنے سے بچانے والا بحری جہاز روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے میانمار کی جانب روانہ کردیا گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بحیرہ روم میں مالٹا کی امدادی تنظیم مائیگرنٹ آفشور ایڈ اسٹیشن (ایم او اے ایس) نے اعلان کیاکہ اس کا بحری جہاز جو اب تک بحیرہ روم میں تارکین وطن کی امداد اور ان سمندر میں ڈوبنے سے بچانے کے آپریشن پر مامور تھا اب ایشیا کی جانب روانہ کردیا گیاجہاں میانمار اور بنگلا دیش کی سرحد کے درمیان سمندری حدود میں مہاجرین کا بحران پیدا ہوچکا ۔ اس بحری جہاز کا نام ’’فیونکس‘‘جو اب تک بحیرہ روم میں لاکھوں تارکین وطن کو اسمگلرز اور دیگر خطرات سے بچاچکااور یہ وہاں 2014 سے موجود تھا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان میانمار سے بنگلا دیش کی جانب ہجرت کرچکےجبکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر یومیہ 15 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان بنگلا دیش کا رخ کرر ۔ اقوام متحدہ کا کہناکہ اس کی امدادی تنظیموں کو خوراک اور دیگر اشیاء متاثرہ علاقوں تک پہنچانے سے روکا جارہاجبکہ وہاں موجود امدادی کارکنوں کا کہناکہ ان کے گوداموں میں موجود سامان کو لوٹ لیا گیا ۔ ایم او اے ایس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس نے لیبیا کے ساحل کے قریب اپنا آپریشن معطل کردیا اور امدادی بحری جہاز خلیج بنگال کی جانب روانہ کردیا ۔ خیال ر میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ریاستی ظلم ڈھائے جار اور اب تک ہزاروں افراد کو قتل کیا جاچکا ۔ دنیا بھر کے 3 لاکھ سے زائد افراد نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش آنگ سان سوچی سے نوبل انعام واپس لینے کا مطالبہ کردیا ، مالدیپ نے بھی احتجاجاً میانمار سے تجارتی تعلقات منقطع کردیے ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔