آئی جی سندھ نے 7 جولائی کے بعد کیے گئے تبادلے اور تعیناتیاں منسوخ کردیں

کراچی: آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے 7 جولائی کے بعد پولیس میں ہونے والے تمام تبادلے اور تعیناتیاں منسوخ کرتے ہوئے ان 7 جولائی سے پہلی والی ذمہ داریوں پر واپس جانے کا حکم دے دیا ۔ آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ اور سندھ حکومت کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کرتی جارہی ، صوبائی حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود آئی جی سندھ اب بھی اپنے عہدے پر برقراراور سندھ حکومت کو ہر بار سندھ ہائی کورٹ سے منہ کی کھانی پڑی ۔ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد آئی جی سندھ بھرپور ایکشن میں دکھائی دے راور انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے 7 جولائی کے بعد پولیس میں ہونے والے تمام  تبادلے اور تعیناتیاں منسوخ کردیں جب کہ تمام افسران کو 7 جولائی سے پہلی والی تعیناتی پرجانے کا حکم بھی دیدیا۔ آئی جی سندھ نے سندھ حکومت کے 22 حکم نامے منسوخ کیے جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ۔ اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ اللہ ڈنوخواجہ کوعہدے پر برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی کو 3 سال کی مدتِ ملازمت سے پہلے ن ہٹایا جاسکتا۔ سندھ ہائی کورٹ نے بھی پولیس افسران کی تقرری و تبادلے سے متعلق صوبائی حکومت کے 7 جولائی کے دونوں نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیے ۔ واضح ر سندھ حکومت نے 7 جولائی کے بعد مختلف اضلاع کے ایس ایس پیز اور دیگر افسران کے تبادلے کیے ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔