ٹرگنومیٹری کے موجد یونانی نہیں بلکہ قدیم عراقی تھے، تحقیق

کراچی: آسٹریلوی ماہرین کا کہناکہ قائمۃ الزاویہ مثلث (رائٹ اینگلڈ ٹرائی اینگل) کی سب سے قدیم اور درست ترین جدولیں (ٹیبلز) آج سے 3,700 سال پہلے بابل میں مٹی کی ایک لوح پر نقش کی گئی تھیں؛ اور اس طرح یہ ثابت ہوتاکہ علم المثلث (ٹرگنومیٹری) کی بنیاد یونانیوں نے ن بلکہ ان سے بھی 1,200 سال پہلے اہلِ بابل نے باضابطہ طور پر رکھ دی تھی۔ میٹرک سائنس کے طالب علموں کو علم المثلث (ٹرگنومیٹری) میں مسئلہ فیثاغورث پڑھاتے وقت یہ بھی بتایا جاتاکہ اس مسئلے کو تقریباً 540 قبلِ مسیح میں یونانی مفکر اور ریاضی داں فیثا غورث نے سب سے پہلے نہ صرف پیش کیا تھا بلکہ اسے حل بھی کیا تھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ قائمۃ الزاویہ مثلث سے تعلق رکھنے والا یہ مسئلہ (یعنی مسئلہ فیثا غورث) ہی جدید علم المثلث کی بنیاد بھی ؛ جو ریاضی کے میدان میں یونانیوں کی برتری کا تاریخی ثبوت بھی قرار دیا جاتا ۔ علاوہ ازیں ایک اور فلسفی ’’ہپارکس‘‘ کو ٹرگنومیٹری کا بانی قرار دیا جاتاجو 120 قبل مسیح کے یونان میں رہتا تھا۔ لیکن نئی دریافت کی روشنی میں یہ دعوے غلط دکھائی دیتے ۔ موجودہ عراق میں آج سے ہزاروں سال پہلے ’’بابل‘‘ (Babylon) کی تہذیب آباد تھی جسے دنیا کی قدیم ترین منظم تہذیبوں میں بھی شمار کیا جاتا ۔ مٹی کی یہ چھوٹی سی لوح جسے ’’پلمپٹن 322‘‘ کا نام دیا گیا1900 کے عشرے میں جنوبی عراق سے دریافت ہوئی لیکن ایک صدی گزر جانے کے باوجود بھی یہ مسئلہ حل ن ہو رہا تھا کہ آخر اس پر موجود نقوش و نگار کیا حیثیت رکھتے ۔ یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز، آسٹریلیا کے ایک تحقیق کار ڈینیئل مینسفیلڈ اور ان کے ساتھیوں نے برسوں کی جستجو کے بعد آخرکار ثابت کیاکہ اس لوح پر بنے ہوئے نقوش و نگار دراصل قائمۃ الزاویہ مثلث کی مختلف شکلوں کو ظاہر کرتےجن جدولوں (ٹیبلز) کی صورت میں ترتیب دیا گیا ۔ اندازہکہ یہ لوح اور اس قسم کی دوسری تختیاں بابل میں ریاضی کی تدریس میں استعمال کی جاتی تھیں۔ مینسفیلڈ کے مطابق، لوح پر باریک بینی کے ساتھ کی گئی تحقیق سے پتا چلاکہ اُس زمانے کے بابل میں ٹرگنومیٹری سمجھنے اور سمجھانے کےلیے زاویوں اور دائروں کے بجائے نسبت اور تناسب کا منفرد انداز اختیار کیا جاتا تھا۔ واضح ر کہ یہ انداز ایک عرصے تک استعمال میں رہنے کے بعد بتدریج متروک ہو گیا تھا کیونکہ اس کی جگہ دوسرے بہتر طریقوں نے لے لی تھی۔ اس لوح پر ’’پائتھاگوریئن ٹرپلز‘‘ کہلانے والی شکلوں سے ملتے جلتے نقوش موجودجن کی مدد سے کسی قائمۃ الزاویہ مثلث کے اضلاع کی نامعلوم لمبائیاں معلوم کی جا سکتی ۔ البتہ یہ پتا ن چل رہا تھا کہ ان نقوش کا مقصد صرف ریاضی کی تدریسی مشقیں کروانایا پھر ان کے پس پشت کوئی اور غرض بھی موجود ۔ آج ہم جانتےکہ بابل کی قدیم تہذیب میں 60 کی اساس پر عددی نظام قائم تھا، بالکل اسی طرح جیسے آج کے عددی نظام کی بنیاد 10 پراور اسی مناسبت سے یہ اعداد کا ’’اعشاری نظام‘‘ (ڈیسی مل سسٹم) بھی کہلاتا ۔ آسٹریلوی ماہرین نے جب ان معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس لوح پر بنے نقوش و نگار کا جائزہ لیا تو انکشاف ہوا کہ اصل حالت میں اس لوح پر 6 کالم اور 38 قطاریں رہی ہوں گی؛ جن استعمال کرتے ہوئے اُس زمانے میں محلات، عبادت گاہوں اور نہروں تک کی تعمیر کے لیے درکار تمام ضروری حساب لگایا جاتا تھا۔ اس دریافت کے بارے میں یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز کی جانب سے یوٹیوب پر ایک ویڈیو بھی شیئر کرائی گئی : اپنی اس دریافت کو ثابت کرنے کے لیے مینسفیلڈ اور ان کے ساتھیوں نے قدیم بابل میں رائج عددی نظام استعمال کیا اور ان نقوش و نگار کی مطابقت میں (منظم انداز سے) مختلف اعداد بھی درست طور پر اخذ کیے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہناکہ یہ لوح 1822 قبل مسیح سے 1762 قبل مسیح کے درمیان کسی وقت تیار کی گئی تھی۔ یعنی اگر یہ دریافت مزید تجزیوں کے بعد بھی درست ثابت ہو سکتیتو آنے والے برسوں میں ’’بابائے علم المثلث‘‘ کا تاج یونانیوں کے بجائے اہلِ بابل کے سر پر سج جائے گا۔ اس تحقیق کے نتائج ریسرچ جرنل ’’ہسٹوریا میتھمیٹیکا‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply